گوادر شاہی بازار میں مذہبی رواداری
ور گوادر شاہی بازار میں ہندومسلم رواداری کی اعلی مثال سوبراج ساتهویں جماعت تک میرے کلاس فیلو رهے تهے ان کا بڑا بهائی لال چند پڑهائی میں سست تها وه ساتویں میں همارے ساتھ پڑھتے تھے۔ ان کی زبان میں لکنت تهی اس لئے جب وه اردو یا انگریزی پڑهتے تو وه ان کی زبان میں ہر الفاظ ککے تلفظ عجیب سے لگتے تهے جس سے کلاس کے تمام لڑکوں کو بڑامزه آتا تها. سوبهراج کے والد دنی رام کا گوادر شاہی بازار کے وسط میں راشن کے ساتھ ساتھ جڑی بوٹیوں کا دکان تها. سوبهراج کے ساتھ میری بڑی دوستی تهی کیونکہ ایک تو وه میرا کلاس فیلو تها تو دوسری وجہ ان کو قصے کہانیوں کے رسالوں سے بڑی محبت تهی خصوصاً بچوں کے رسالے وه ڈاک سے منگواتے تهے شام کو ان کے والد دکان کے ایک کونے پر ان کو بٹهاتے تهے. وه اسکول گهر اور دکان تک محدود تها کبهی بھی وہ ساحل سمندر یا پہاڑی یا کسی فٹبال گراؤنڈ میں کھیلے نہیں جاتے تھے۔ میں اور میرے کچھ دوست شام کو ان کے دکان میں جاکر ان سے بچوں کی نئے رسالے خریدتے تهے. شاهی بازار کی دکانیں صبح آٹھ بجے کهلتے تهے اور اسی طرح قریبی گلگ منڈی صبح 6بجے کهل...