Posts

Showing posts from March, 2022

گوادر بار ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام تقریب

Image
 گوادربار ایسوسی ایشن میں گوادر میگا سٹی کے موضوع پر گوادر بار  ایسوسی ایشن کا تقریب جس کے مہمان خصوصی گوادر کے ڈپٹی کمشنر ریٹائرڈجمیل احمد بلوچ تھے دیگر مقررین میں گوادربار ایسوسی ایشن کے صدر ایڈوکیٹ عبید بلوچ سابق صدر ایڈو کیٹ شےخالد حسین، ایڈوکیٹ احسان بلوچ، ایڈوکیٹ شبیر رند، ایڈوکیٹ معراج بلوچ، سابق صدر ایڈوکیٹ آ صف بلوچ  نے اپنے خطاب میں کہاکہ وکلا کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں، گوادر کی تعمیر و ترقی میں گوادر  ایسوسی ایشن کے وکلا کا اہم کردار رہا ہے۔ ہمیں افسوس ہےکہ گوادر بار کو وہ اہمیت نہیں دی جا رہی ہے جس کا وہ حقدار ہیں۔ اج گوادر کے وکلا گونا گوں مشکلات کے شکار ہیں۔ پاک و ہند کی آزادی میں وکلاء کا نام سر فہرست ہے محمد علی جناح اور گاندھی قانون گو تھے جبھی بر صغیر میں دو ممالک میں پاکستان اور انڈیا وجود میں ائے۔ اس شہر کی ترقی میں وکیلوں کا اہم کردار رہا ہے۔  ہماری بار  2004 میں رجسٹرڈ ہو چکی ہے۔ بار اپنے ممبران کی فلاح و بہبود کے لئے ہمیشہ مصروف عمل ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ  ایسوسی ایشن کو ہمیشہ اداروں کی جانب سے نظر انداز کیا گیا ہے۔...

گوادر پریس کلب ءَ ڈکٹر عزیز یاتگیری مراگش

Image
  ڈاکٹر عزیز نمیران انت ۔۔۔۔سلیمان ھاشم۔۔۔۔۔ گُش انت کہ دو روچی امروز ءَ کس پاگ نہ بندیت ءُ دائمی نہ نند ایت۔ ھرکس ءَ روچے نہ روچے چہ ادا لڈگ ءُ روگی انت۔ بلے لھتیں انچیں کارست بنت کہ آ اے دگنیا ءِ تلو ءِ سر ءَ یک رندے کاینت ءُ رو انت بلے وت ءَ پہ دائمی ابدمان کن انت۔ انچش ھمے کارستانی تہ ءَ یکے  واجہ ڈاکٹر عزیز بلوچ انت۔ ڈاکٹر عزیز یک سیاسی رھشونے، یک پوریاگر دوستیں چاگردی سروکے، یک زندگ ءُ مھروانیں انسان دوستیں مردمے بیتگ۔ ڈاکٹری ءُ انسانی جان سلامتی ءِ تک وَ آئی ءِ شعبہ بوتگ بلے آ ھر تک ءَ یک ڈول ءَ دلپھک ءُ زمہ وار اَت۔ وھد گوزان بنت باز مردم چہ اے کوڈائیں دگنیا ءَ لڈ انت ءُ رو انت مھلوک لھتیں روچ آیاں یات کن انت بلے پدا بے ھیال اش کن انت۔  بلے لھتیں انچیں مردم ھم بیتگ انت کہ کرن گوستگ انت آ انگت نمیران انت۔ ھمایانی سرپ ءَ ما ڈاکٹر عزیزءَ ھم ھوار کن انت چیاکہ آ نہ ایوک ءَ ڈاکٹرے بیتگ بلکیں آئی ءِ پکر ءُ مارشت سک باز دیم ءَ بوتگ۔ آئی ءَ مدام بلوچ ءُ بلوچستان ءِ سر ڈگار ءِ گپ کتگ۔ آ یک سرکاری ڈاکٹرے بوتگ بلے اے کمال ءُ بود ءِ واجہ  بوتگ کہ آئی ءَ بلوچ راج ءِ درد، ب...

پشکان کے بچے کیا چاہتے ہیں

Image
 پشکان گوادر کے مغرب میں واقع ایک چھوٹا دیہات تھا لیکن چند سالوں کے بعد اب وہ ایک چھوٹا شہر بن چکا ہے۔ اور اس کے طلبہ و طالبات اب گوادر کے کالج اور یونیورسٹی میں حصول علم کے لئے روز بس سے آ کر حصول علم کی خاطر تمام تکلیفیں برداشت کر رہے ہیں۔  پشکان میں ڈوبتے سورج کا منظر اتنا ہی خوبصورت ہے اس سے زیادہ طلوع آفتاب کا منظر بھی دلکش ہے ، میں پشکان تو کئی بار آچکا ہوں  لیکن کبھی بھی سورج غروب کی جانب توجہ نہیں دی شاہد آج پہلی مرتبہ دیکھتا رہا اور سوچتا رہا سورج کیوں ڈوب رہا ہے۔ سورج کو ڈوبنا ہے اور ایک نیا سویرا نئےآبتاب نئی امیدوں کے ساتھ طلوع ہوگا۔ میں ہزاروں بار ڈوبتے سورج کا خوبصورت منظر کئی مقام پر دیکھ چکا ہوں، مجھے محسوس ہوتا یے جیسے قدرت نے میری زندگی کے ہر رنگ کو نیلگوں آسمان کی وسعتوں میں بکھیر دیا ہو۔ جب ڈھلتی شاموں کی روشنی کالے بادلوں کو زنگ آلود بنا دیتی ہے تو مجھے لگتا ہے جیسے کہیں کسی کی نا آسودہ خواہشیں سسکیاں لے رہی ہوں۔ اور کبھی یہی روشنی میری زندگی کے رواں پانیوں کو سنہرا کر دیتی ہے۔ جب پتوں پہ اپنا عکس چھوڑ جا ؑے تو انہیں نارنجی بنا دیتی ہے۔میں ایسے لمحوں ...

قسط نمبر 7 کراچی کا فلیٹ اور دھچکہ

Image
کراچی کا فلیٹ اور دھچکہ دل کو شکستہ ہونا تھا، رات بھر رات نیند آنکھوں سے اوجھل ہو چکی تھی۔  کیا ایڈانس کی رقم چھوڑنی ہوگی۔ صبح ہوتے ہی اللہ بخش کے گھر گیا تمام ماجرا بیان کیا۔ انہوں نے کافی کوشش کی امیر گل سے ٹیلیفون سے بات ہو لیکن وہ گھر پر موجود نہیں تھے۔ اللہ بخش انشورنس کمپنی کے ملازم تھے۔ وہ ڈیوٹی پر جا رہے تھے اور تاکید کی کہ میں دوبارہ فلیٹ پر جاکر اصل حقائق سے انہیں ٹیلیفون سے رابطہ کروں۔ میں دوبارہ بغدادی دریا اباد فلیٹ پر پہنچا۔ تو مالک وہی موجود تھا۔ میں غصے میں تھا ان سے پوچھا بھائی یہ تم نے کیا کر دیا میں اپکا کرایہ دار ہوں ۔ " اڑے تم ہمارا کرایہ دار نہیں ہو ہم دوست کی رشتہ دار کی حیثیت سے یہ کمرہ دیا ہوں بھائی وہ کہتا تھا کہ تم کو کچھ دن ادھر رہنا ہے" میں نے کہا بھائی ہم پانچ ہزار ایڈوانس دے چکا ہوں  " امیر گل نے تو کوئی ایڈوانس وغیرہ نہیں دی ہے یہ ہمارا شرافت ہے ہم نے تم کو جگہ دی۔ اور تم میرے ساتھ آؤ میں تم کو رہنے کے لئے دوسرا اچھا جگہ دیتا ہوں۔  میں نے کہا ٹھیک ہے۔ وہ مجھے کراون سنیما کے پیچھے ایک چائے کے ہوٹل کے ساتھ ایک کمرہ دکھانے لگا۔ کمرہ تو صاف ست...
Image
ڈپٹی کمشنر گوادر کیپٹن ر جمیل احمد  کا گوادر شہر کے قدیمی آبادی میں موجود تاریخی اور قدیمی مقامات سمیت پرانی شاہی بازار ،کریموک ہوٹل ، اوراسماعیلہ وارڈ کا دورہ کیا اور لوگوں سے گُل مل گئے اور ان کے مسائل معلوم کئے اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ذاکر علی بلوچ اسسٹنٹ کمشنر   پسنی محمد جان بلوچ میر عبدالغفور ویلفیئر ٹرسٹ کے چیئرمین میر ارشد کلمتی بھی ان کے ہمراہ تھے انہوں نے گوادر اولڈ سٹی ٹاؤن کا دورہ کیا اور قدیمی ہوٹل کریموک میں موجود شہریوں کے ساتھ چاہے بھی پی اور لوگوں سے گُل مل گئے بعدازاں ڈپٹی کمشنر گوادر نے قدیمی شاہی بازار موجود تاریخی مقامات کا بھی دورہ کیا اور کہا کہ موجودہ حکومت گوادر اولڈ سٹی کی تعمیر اور مرمت اور اس کو جدید طرز تعمیر کے لیے اقدامات کررہے ہیں اس سلسلے میں صوبائی حکومت مختلف منصوبوں پر عملدرآمد کررہی ہے

کراچی کرایہ کا فلیٹ اور شکستہ دل

Image
  قسط نمبر 6ا   کراچی کا سنگل فلیٹ اور شکستہ دل شب روز ایسے ہی گزر رہے تھے ہفتے کی شام کو میں جہانگیر روڈ چلا گیا اور اللہ بخش کا مہمان تھا۔ دوسری صبح اتوار کا دن تھا میں اور اللہ بخش دونوں کراچی صدر اور پھر کلفٹن چلے گئے  اور مغرب سے پہلے میں بغدادی دریا آباد کی طرف نکل گیا کرایہ کے فلیٹ کی جانب پہنچ چکا تھا۔ تو مجھے حیرت اور دھچکا لگا  کہ میرے سامان بمعہ میرے کتابوں کے برآمدے میں پڑے تھے اور اور اس فلیٹ کے دروازے پر کوئی اور تالا لگا تھا، نیچے اترا  سائیکل کی دکان میں ایک کاریگر بیٹھا تھا اس سے اپنے کرائے کے فلیٹ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ رات کو سیٹھ کے کچھ مہمان دوبئی سے آئے تھے۔ سیٹھ نے اس کمرے میں ان کو جگہ دی تمہارے کتاب اور سامان نکالے اور دوسرا تالا لگایا دیا ہے۔  اب جو بھی ہوگا کل صبح تم اجانا۔ شکستہ دل کے ساتھ میں کلری پہنچا۔ (جاری ہے)

قسط نمبر 5 کراچی کرایہ کا فلیٹ اور شیدی ولیج روڈ

Image
  ابھی کراچی میں انٹر میڈیٹ کے امتحانات کے لئے ایک مہینہ باقی تھا۔ اور میں اس ایک کمرے میں روز جانے سے پہلے کچھ دیر لیمارکیٹ ضرور جاتا  ڈیڈھ بجے کالج سے چھٹی کرتے اکثر لیمارکیٹ شیدی ولیج روڈ پر واقع رحمانی گڈز ٹرانسپورٹ جاتا جہاں مرحوم مولا بخش اور اس وقت کے نوجوان عبدالخالق نگوری سے ۔ملاقات ہوتا اکثر گوادری وہی پر ملتے اور  وہ اس ٹرانسپورٹ پر گوادر کے اکثر تاجر ان کے ٹرانسپورٹ سے لانچوں سے سامان گوادر بھیجا کرتے تھے۔  کبھی کوئی خط کبھی کوئی سندیسہ مل جاتا تو کبھی گوادری حلواہ گوادر سے والدین اور بھائی کچھ نہ کچھ ضرور بیجھتے تھے اسی معروف ٹرانسپورٹ کے اڈریس پر گوادریوں خطوط بھیج دیتے تھے ۔  مراد آوارانی کے ماربل کی دکان بھی قریب تھا،  جہاں پر سید ظہور شاہ ہاشمی وہی ایک کرسی پر بیٹھے ہمیشہ کچھ لکھ رہے ہوتے تھے۔ وہ روز صبح کلری سے اتے تمام دن یہی گزار کر مغرب کی  آذان سے کچھ پہلے پیدل گھر چلے جاتے تھے۔  سلام علیک کے بعد اکثر و بیشتر میرے جیب میں ایک افسانہ ہوتا وہ اس کو ضرور پڑھتے اور کچھ تصحیح کرکے مجھے دے دیتے تھے بہت شفیق اور قوم دوست انسان تھے۔ ...

10 مارچ کو مسلم لیگ (ن) مکران ڈویژن کا ورکرز کنونشن پنجگور میں ہوگا ۔ آئندہ حکومت مسلم لیگ (ن ) کی ہوگی

Image
 گوادر،  نیازی حکومت نے ملک کو گروی رکھ دیا ، حکومت کا کوئی ویژن نہیں ، ملکی معیشت تبا ،داخلہ و خارجہ پالیسی ناکام  ہوگئی، حکمرانوں کے دن گنے جاچکے ہیں ، 10 مارچ کو مسلم لیگ (ن)  مکران ڈویژن کا ورکرز کنونشن پنجگور میں ہوگا ۔ آئندہ حکومت مسلم لیگ (ن ) کی ہوگی ان خیالات کا اظہار مسلم لیگ (ن ) مکران کے ڈویژن صدر اشرف ساگر ، سنئیر نائب صدر عبدالقدیر  بلوچ ،جنرل سیکریٹری پرویز جمیل ، سنئیر راہنما میر ابراہیم دشتی و دیگر نے گوادر پریس کلب میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انھوں نے کہا کہ نیازی حکومت نے ملک کو تباہی کے دہانے پر کھڑا دیا ہے ملک میں گزشتہ 3 سال بھیانک ثابت ہوئے  انھوں نے کہا کہ حکومت کی داخلہ خارجہ پالیسیاں ناکام اور معشیت تباہ ہوگئی ۔ انھوں نے کہا کہ عمران خان کی حکومت نے ملک و قوم کو مایوسی اور پسماندگان کے سوا کچھ نہیں دیا ۔ہر گزرتے دن کے ساتھ حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں ۔ مہنگائی اور غربت نے عوام کا برکس نکال دیا ۔ جس کی وجہ سے ملک میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے ۔عوام سراپائے احتجاج بن گئے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ انشاء اللہ آئندہ کچ...

قسط نمبر 2 کرایہ کا فلیٹ کراچی میں نوجوان رات کو دیر تک جاگنے کے عادی ہیں

Image
رات کو دیر تک لیاری کے نوجوان سڑکوں کے تڑوں پر دیر تک گفتگو کرتے دکھائی دیتے تھے۔ ۔   یہ چابی لو اور جب بھی جی چائے فلیٹ کے کمرہ نمبر 2 میں اپنا سامان شفٹ کر دو۔ اس کے بعد امیر گل ہمیں شاہ بیگ لین اپنے گھر لے ائے اور میرے رشتے دار سے کہا کہ 5 ہزار ایڈنس ان کو دینا ہوگا کل پیسے کابندو بست کرنا پر میرے پاس آ نا۔ اگرچہ 5 ہزار کی ایڈوانس کی رقم ان دنوں بہت زیادہ تھا۔  لیکن مجبوری تھی میں نے بندوبست کر لیا۔اور دوسرے دن ان کو دے دیا۔ ۔دوسرے دن صبح میں لیمارکیٹ گیا، میں نے ایک جاڑو ایک پانی کا مٹکا۔ ایک دو چائے کے کپ ایک پینے کا گلاس، چارپائی ایک ٹیبل ایک کرسی ایک رضائی ایک چادر سرہانہ، اور دیگر چیزیں خریدیں اور  فلیٹ کو صاف ستھرا کیا اور ہر چیز کو ترتیب سے رکھا۔ اور اس دن کالج نہیں گیا شام کے 4بجے تک مصروف تھا دوپہر کو کھانا کھاکر جوں ہی فارغ ہوا تو پنکھا چالو کرتے ہی نیند آ نے لگی۔ جب آ نکھ کھلی تو گھڑی میں شام کے 7 بج رہے تھے۔ (جاری ہے) ۔

گوادر پریس کلب میں ڈپٹی کمشنر رئٹائرڈ کپٹن جمیل احمد کی گوادر کے صحافیوں سےملاقات

Image
گوادر کسی بھی معاشرے کی تعمیر و ترقی  میں  میڈیا کے کردار سے انکار ممکن نہیں ، یہ معاشرے کی بگاڑ اور تعمیر کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ گوادرپریس کلب کے صحافیوں کی ذمہ دارانہ  تعمیری اور مثبت طرز صحافت  کا کردار شاندار ہے ان خیالات کا اظہار ڈپٹی کمشنر گوادر ریٹائرڈ جمیل احمد رند نے گوادر پریس کلب  میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ۔انھوں نے کہا کہ صحافت معاشرےمیں چوتھا ستون کا درجہ رکھتاہے ۔اور یہ معاشرے میں آنکھ اور کان کا کردار ادا کرتاہے ۔ اس بات سے در کنار کے گوادرپریس کلب کے صحافی مختلف مسائل کے شکار ہیں لیکن اس کے باوجود بھی معاشرے میں ان کی ذمہ دارانہ تعمیری اور مثبت طرز صحافت مثالی ہے جن کی میں قدر کرتا ہوں۔انھوں نے کہا کہ کسی بھی میدان میں تنقید برائے تنقید سے بگاڑ پیدا ہوتا ہے لیکن تنقید کو اگر تعمیری انداز میں کی جانے تو اس کا مثبت پہلو جلوہ گر ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا برائے راست پبلک کے دماغ کو کنٹرول کرتا ہے۔معاشرے کو برائی سے اچھائی  کی طرف راغب کرنا اور انھیں شعور اور آگاہی فراہم کرنا ایک ذمّہ دار صحافی کا فرض ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ...

میری آ پ بیتی یاد رفتگاں اور کرائے کا مکان

Image
  فرسٹ ائیر کےامتحانات قریب تھے کلری لیاری میں میرے عزیز کے گھر میں امتحانات کی تیاری مشکل ہو رہا تھا۔ وہ ملانی بچوں اور بچیوں کو حفظ قرآن کراتی تھیں۔ جب بھی وہ کئی باہر چلی جاتی تو بچے شور وغل کرکے میری پڑھائی کو غارت کرتے تھے۔ اب میں سوچ رہا تھا کہ کوئی مکان یا کمرہ کرایہ پر قریب حاصل کروں۔ اس سلسلے میں میرے ایک رشتہ دار سے اپنے مسائل بیان کئیے تو ان کا لیاری میں سسرال والے رہتے تھے۔ ایک دن امیر گل سے ملاقات کرائی وہ اپنی سفید کرولا میں لے کر بخدادی کے قریب نیا اباد یا دریا اباد میں اپنے ایک دوست سے  ملاقات کرایا۔ ان کا سائیکلوں کا دکان تھا وہ سائیکل بیچتے تھے اور کرایہ پر بھی دیتے۔ انہوں نے دودھ پتی چائے پلائی اور اس دوران امیر گل نے میرے لیئے دکان کے اوپرایک کمرے کی بات کی اور کہاں کہ یہ بندہ مکران کا ہے اور میرے عزیز ہیں اب اس کے امتحانات قریب ہیں یہ دن کو اس کمرے میں رہائش کرے گا اور رات کو گھر جائے گا۔ اس دور میں کراچی میں امن تھا کسی قسم کا خوف و خطر نہیں تھا، کوئی چوری ڈکیتی اور مارا ماری کا دور نہیں تھا۔ رات کو دیر تک لیاری کے نوجوان سڑکوں کے تڑوں پر دیر تک گفتگو کرت...