قسط نمبر 7 کراچی کا فلیٹ اور دھچکہ





کراچی کا فلیٹ اور دھچکہ

دل کو شکستہ ہونا تھا، رات بھر رات نیند آنکھوں سے اوجھل ہو چکی تھی۔ 

کیا ایڈانس کی رقم چھوڑنی ہوگی۔

صبح ہوتے ہی اللہ بخش کے گھر گیا تمام ماجرا بیان کیا۔ انہوں نے کافی کوشش کی امیر گل سے ٹیلیفون سے بات ہو لیکن وہ گھر پر موجود نہیں تھے۔ اللہ بخش انشورنس کمپنی کے ملازم تھے۔ وہ ڈیوٹی پر جا رہے تھے اور تاکید کی کہ میں دوبارہ فلیٹ پر جاکر اصل حقائق سے انہیں ٹیلیفون سے رابطہ کروں۔

میں دوبارہ بغدادی دریا اباد فلیٹ پر پہنچا۔ تو مالک وہی موجود تھا۔ میں غصے میں تھا ان سے پوچھا بھائی یہ تم نے کیا کر دیا میں اپکا کرایہ دار ہوں ۔

" اڑے تم ہمارا کرایہ دار نہیں ہو ہم دوست کی رشتہ دار کی حیثیت سے یہ کمرہ دیا ہوں بھائی وہ کہتا تھا کہ تم کو کچھ دن ادھر رہنا ہے"

میں نے کہا بھائی ہم پانچ ہزار ایڈوانس دے چکا ہوں 

" امیر گل نے تو کوئی ایڈوانس وغیرہ نہیں دی ہے یہ ہمارا شرافت ہے ہم نے تم کو جگہ دی۔ اور تم میرے ساتھ آؤ میں تم کو رہنے کے لئے دوسرا اچھا جگہ دیتا ہوں۔ 

میں نے کہا ٹھیک ہے۔

وہ مجھے کراون سنیما کے پیچھے ایک چائے کے ہوٹل کے ساتھ ایک کمرہ دکھانے لگا۔

کمرہ تو صاف ستھرا کشادہ تھا لیکن ہوٹل کے بڑے لائوڈ اسپیکر سے بلوچی گلوکارجاڈوک کی اواز میں جو گانا  بج رہا تھا وہ کان پھاڑ رہا تھا اس کے بعد اردو گانا بجنے لگا۔

سیٹھ کہہ رہا تھا اس سے اچھا جگہ میرے پاس نہیں اور ہاں ایک مہینہ تم یہاں ٹہر سکتے ہو پھر یہ جگہ بھی خالی کرنا ہوگا ہوں۔ 

مجھے اس شخص پر غصہ ارہا تھا۔ وہ میرے کچھ سامان بھی  اپنی گاڑی میں ڈال کر لایا تھا۔ 

میں نے ان سے کہا بھائی میں اس کمرے میں نہیں رہ سکتا مہربانی کرکے میرا سامان رحمانی ٹرانسپورٹ میں پہنچا دوں اپ کے جگہ اپ کو مبارک ہو۔ میں یہاں نہیں رہ سکتا مجھے پڑھنا مجھے سکون چائیے ۔۔۔۔۔۔

Comments

Popular posts from this blog

قسط نمبر 5 کراچی کرایہ کا فلیٹ اور شیدی ولیج روڈ

پہلی بار پاکستان کوسٹ گارڈز میں صرف بلوچستان کے نوجوانوں کو بھرتی کیا جائیگا لیفٹیننٹ کرنل جاوید حسین

گوادر شاہی بازار میں مذہبی رواداری