قسط نمبر 5 کراچی کرایہ کا فلیٹ اور شیدی ولیج روڈ
ابھی کراچی میں انٹر میڈیٹ کے امتحانات کے لئے ایک مہینہ باقی تھا۔ اور میں اس ایک کمرے میں روز جانے سے پہلے کچھ دیر لیمارکیٹ ضرور جاتا ڈیڈھ بجے کالج سے چھٹی کرتے اکثر لیمارکیٹ شیدی ولیج روڈ پر واقع رحمانی گڈز ٹرانسپورٹ جاتا جہاں مرحوم مولا بخش اور اس وقت کے نوجوان عبدالخالق نگوری سے ۔ملاقات ہوتا اکثر گوادری وہی پر ملتے اور وہ اس ٹرانسپورٹ پر گوادر کے اکثر تاجر ان کے ٹرانسپورٹ سے لانچوں سے سامان گوادر بھیجا کرتے تھے۔ کبھی کوئی خط کبھی کوئی سندیسہ مل جاتا تو کبھی گوادری حلواہ گوادر سے والدین اور بھائی کچھ نہ کچھ ضرور بیجھتے تھے اسی معروف ٹرانسپورٹ کے اڈریس پر گوادریوں خطوط بھیج دیتے تھے ۔
مراد آوارانی کے ماربل کی دکان بھی قریب تھا، جہاں پر سید ظہور شاہ ہاشمی وہی ایک کرسی پر بیٹھے ہمیشہ کچھ لکھ رہے ہوتے تھے۔ وہ روز صبح کلری سے اتے تمام دن یہی گزار کر مغرب کی
آذان سے کچھ پہلے پیدل گھر چلے جاتے تھے۔
سلام علیک کے بعد اکثر و بیشتر میرے جیب میں ایک افسانہ ہوتا وہ اس کو ضرور پڑھتے اور کچھ تصحیح کرکے مجھے دے دیتے تھے بہت شفیق اور قوم دوست انسان تھے۔ " ان کا کہنا تھا لکھو اردو میں انگریزی اور بلوچی زبان میں لکھنے کی عادت ڈالو"
ان کی محفل میں بیٹھ کر بلوچی ادب سے قربت ہوتا تھا۔
ان کے پاس مجھ جیسے نو آموز لکھاری میں نےکئی دیکھے جو بعد میں کئ شاعری کے کتابوں کے شعراء نکلے۔اور کچھ تو ادیب بنے۔ اور کچھ بے وفا اور احسان فراموش نکلے۔
اس ملاقات میں اکثر و بیشتر سید ہاشمی مجھے اپنی کتابیں اور دیگر کئی کتابیں پڑھنے کو دیا کرتے تھے۔۔
(جاری ہے)
Comments
Post a Comment