پشکان کے بچے کیا چاہتے ہیں
پشکان گوادر کے مغرب میں واقع ایک چھوٹا دیہات تھا لیکن چند سالوں کے بعد اب وہ ایک چھوٹا شہر بن چکا ہے۔ اور اس کے طلبہ و طالبات اب گوادر کے کالج اور یونیورسٹی میں حصول علم کے لئے روز بس سے آ کر حصول علم کی خاطر تمام تکلیفیں برداشت کر رہے ہیں۔
پشکان میں ڈوبتے سورج کا منظر اتنا ہی خوبصورت ہے اس سے زیادہ طلوع آفتاب کا منظر بھی دلکش ہے ، میں پشکان تو کئی بار آچکا ہوں لیکن کبھی بھی سورج غروب کی جانب توجہ نہیں دی شاہد آج پہلی مرتبہ دیکھتا رہا اور سوچتا رہا سورج کیوں
ڈوب رہا ہے۔ سورج کو ڈوبنا ہے اور ایک نیا سویرا نئےآبتاب نئی امیدوں کے ساتھ طلوع ہوگا۔
میں ہزاروں بار ڈوبتے سورج کا خوبصورت منظر کئی مقام پر دیکھ چکا ہوں، مجھے محسوس ہوتا یے جیسے قدرت نے میری زندگی کے ہر رنگ کو نیلگوں آسمان کی وسعتوں میں بکھیر دیا ہو۔ جب ڈھلتی شاموں کی روشنی کالے بادلوں کو زنگ آلود بنا دیتی ہے تو مجھے لگتا ہے جیسے کہیں کسی کی نا آسودہ خواہشیں سسکیاں لے رہی ہوں۔ اور کبھی یہی روشنی میری زندگی کے رواں پانیوں کو سنہرا کر دیتی ہے۔ جب پتوں پہ اپنا عکس چھوڑ جا ؑے تو انہیں نارنجی بنا دیتی ہے۔میں ایسے لمحوں کو یوں محسوس کرتا ہوں کہ میرے لوگ محرومی کے شکنجے میں گرفتار ہوں وہ دکھی اور پریشان حال ہیں۔ ان کے چہرے پیلے پڑ چکے ہیں۔ انہیں علاج معالجہ کی ضرورت ہے۔ نہ ان کے لئے تمام ضرورتوں سے آ راستہ ہسپتال ہیں اور نہ ہی ادویات ہیں۔ اور نہ ڈاکٹر ہیں۔ گوادر ہیڈ کواٹر سیول ہسپتال ہے وہاں ہسپتال کی نئی بلڈینگ کا کام رک گئی۔ ہسپتال میں ادویات نہیں ڈاکٹروں کی کمی اور کئی مسائل کے بنا ہسپتال کے ایم ایس عوام سے تعاون کی اپیل کرتے نظر آتے ہیں۔ اگر ہسپتال کی نئی بلڈینگ بن بھی جائے تو کچھ ڈاکٹر موجود ضرور ہوں گے۔
لیکن ایک غریب مریض ادویات خریدنے کی قوت نہیں رکھتا ہسپتال کے ارد گرد کئی میڈیکل اسٹوروں کی بھر مار ہے لیکن غریب کی جیب خالی ہو وہ ایک امید ایک آس لیکر ہسپتال کا رخ کرکے مایوس لوٹ جاتا ہے۔ ہر گھر پر اپنے مریض کے علاج کے لئے دستک دیتا ہے۔ آ نسو بہاتا ہے یا اپنی عزت اور شرم کی وجہ سے کسی کے آ گے ہاتھ نہیں پھیلاتا ہے اور موت کو گلے لگاتا ہے۔
کسی ایسی روشنی کی ان کو ضرورت ہے جو ایک خوبصورت روشن اور جوان سورج دوبارہ لوٹ آنے کا وقت کا ان کو ہمیشہ انتظار ہے۔ جہاں بیماری نہ ہو جہاں دکھ نہ ہو۔ جہاں خوشحالی ہو۔ جہان مداخلت نہ ہو۔
تھکن زدہ صبر آزما چہروں پہ خوبصورت روشنی کی ضرورت ہے۔
،میں نے آ ج ان بچوں کو شکایت کرتے دیکھا جو بوند بوند پانی کے لئے ترسائے جاتے رہے ہیں۔ زمانہ ترقی کر گیا لیکن ان کو بجلی کی روشنی سے منور کب اور کون کرے گا شاہد علم کی روشنی جلد آ جائے تو بہت کچھ ہوگا۔ نئی نسل جوان ہو اور جوان بوڑھے ہو جائیں۔ اب جو نوجوان ہیں انکی اب کی سوچ کی شرح بہت بلند ہے۔ اور اب تو مسابقت کا دور ہے۔
میں نے ان معصوم بچوں اور بیٹیوں کو دیکھا جو پڑھنا چاہتے ہیں، بڑھنا چاہتے ہیں، پڑھ کے ڈاکٹر انجنیئر،اساتذہ، پولٹیکل لیڈر، سائنس دان معاشرے میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔ اب پڑھانے والوں کی ضرورت ہے۔ تربیت دلانے والوں کی ضرورت ہے۔ مسیحاؤں کی ضرورت ہے، تھامنے والے ہاتھوں کی ضرورت ہے۔
میں نے ہمیشہ لمبی اڑانیں بھرنے کے بعد ان پرندوں کو دیکھا جو کبھی جلتے آسمان اور کبھی یخ بستہ ہواوں کو خیرباد کہتے اپنے گھروں میں آرام و چھین سے اپنے گھونسلوں میں دم بھرتے دیکھا۔
میں نے کچھ انکھوں کو مٖضطرب دیکھا۔ وہی سورج جب کل صبح ان کے خوبصورت سمندر میں چمکے گا تو شاہد وہ پر عزم ہیں اوران کا وجود ایک خوشحالی کا ایک حصہ ہو۔ شاید یہ اس رشتے کا احساس ہیں جو میرا، ان کا، ہر انسان کا ایک خوشحال و خوبصورت خواب ہے۔
اے میرے مظلوم و محکوم دکھ کے ساتھیوں کبھی مایوس نہ ہونا سورج کی تابناکی کبھی ختم نہیں ہوگی کل ایک خوشحال نئی سورج طلوع ہوگی۔ کبھی ہمت نہ ہارنا۔ اگے بڑھنا اور اگے قدم بڑھنا ہی اپکی وجود اپکی زندگی ہے۔


Comments
Post a Comment