کراچی کرایہ کا فلیٹ اور شکستہ دل
قسط نمبر 6ا
کراچی کا سنگل فلیٹ اور شکستہ دل
شب روز ایسے ہی گزر رہے تھے ہفتے کی شام کو میں جہانگیر روڈ چلا گیا اور اللہ بخش کا مہمان تھا۔ دوسری صبح اتوار کا دن تھا میں اور اللہ بخش دونوں کراچی صدر اور پھر کلفٹن چلے گئے اور مغرب سے پہلے میں بغدادی دریا آباد کی طرف نکل گیا کرایہ کے فلیٹ کی جانب پہنچ چکا تھا۔
تو مجھے حیرت اور دھچکا لگا کہ میرے سامان بمعہ میرے کتابوں کے برآمدے میں پڑے تھے اور اور اس فلیٹ کے دروازے پر کوئی اور تالا لگا تھا، نیچے اترا
سائیکل کی دکان میں ایک کاریگر بیٹھا تھا اس سے اپنے کرائے کے فلیٹ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ رات کو سیٹھ کے کچھ مہمان دوبئی سے آئے تھے۔ سیٹھ نے اس کمرے میں ان کو جگہ دی تمہارے کتاب اور سامان نکالے اور دوسرا تالا لگایا دیا ہے۔
اب جو بھی ہوگا کل صبح تم اجانا۔ شکستہ دل کے ساتھ میں کلری پہنچا۔
(جاری ہے)
Comments
Post a Comment