تاریخ گوادر سلطنت آ ف عمان

 مرکزی صفحہ / خصوصی حال / شاہی بازار گوادر، سلطنت آف عمان اور عصرِحاضر(5)

شاہی بازار گوادر، سلطنت آف عمان اور عصرِح

تاریخ گوادر سلطنت آ ف عمان

تحریر: سلیمان ہاشم


افرادی قوت کی سلطنت آف عمان کو سخت ضرورت تھی کیونکہ سلطنت کی سرحدیں وسیع ہو گئی تھیں۔ امن و امان اور سرحدوں کی حفاظت کے لیے سپاہیوں اور فوجیوں اور آرمیڈ فورسز کے لیے برسوں سے بھرتی خصوصی طور پر گوادر شہر سے جاری رہتا تھا۔ مزید ٹریننگ کے لیے ان نوجوانوں کو مسقط بھیجا جاتا تھا۔ جب ان کی چھ ماہ کی ٹریننگ مکمل ہوتی تھی تو ان نوجوانوں کو مسقط سے صلالہ اورافریقہ کے ملک تنزانیہ کے شہرزنجبار اور ممباسہ تک بھیجا جاتا تھا۔



صرف دبئی کے ساحل سے لیکر یمن عدن تک مسقط کی سمندری حدود 1900 کلو میٹر طویل ہے. گوادر سے لیکر مسقط کا ساحل 400 کلو میٹر، پھر صلالہ سے افریقہ کے جزیرے زنجبار اور ممباسہ 1500 کلو میٹر سے زائد۔ پھر زنجبار اور ممباسہ کا ایک خوب صورت ساحلی جزیرہ اوراس کے خوبصورت لوکیشن کو محفوظ رکھنے کے لیے اُسے کافی میرین سیکورٹی کی ضرورت تھی۔ گوادر کی سرحدیں محفوظ تھیں. ان علاقوں کی حفاظت کے لیے مقامی پولیس، عمانی لیویز فورس کافی تھی. جرائم نہ ہونے کے برابر تھے۔


 اپنے قارئین کو ایک بار پھر گوادر کی عمان میں شمولیت کی طرف لے جاتے ہوئے تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں۔

سلطان بن احمد ہے جو پہلی بار 17ویں صدی میں اپنے بھائیوں سے شکست کھا کر اپنے چند بلوچ ساتھیوں کے ساتھ گوادر میں ایک بادبانی کشتی سے ساحل پرلنگر انداز ہوا. اس زمانے میں گوادر پر گچکیوں اور بلیدیوں کی حکمرانی تھی. انہوں نے اس شکست خوردہ شہزادے کو بڑی عزّت دے کرخان قلات نصیر خان اول سے ان کی ملاقات کرائی۔


خان نے اپنے مہمان شہزادے کی خوب خاطر مدارت کی اور گوادر کا علاقہ ان کو تحفے میں دیا کہ وہ وہی پر پناہ گزین رہ کر اپنی فوجی قوت کومجتمع کرکے دوبارہ اپنے ملک عمان پر قبضہ کرے۔ بلوچ شعرا نے اس منظر کو یوں بیان کیا۔


گوادر ساحل پر بلوچ مرد، خواتین اور چھوٹے بچے اس منظر کی ایک جھلک دیکھنے اور اپنے ملاحوں اور بلوچ سپاہیوں کو رخصت کرنے بڑی تعداد میں پہنچے تھے۔ ان کی آنکھوں میں غم اور خوشی کے ملے جلے آنسو تھے۔ وہ جانتے ہیں کہ برسوں پر محیط اس سفر پر جانے والوں میں سے بہت سے یا شاید سبھی واپس نہیں آ سکیں گے یا شاید ان میں کچھ واپس پہنچیں گے تو وہ کس حال میں ہوں گے. ان کی ایک نظر دور کھڑے ان جنگی کشتیوں پر تو ایک نظر اُ س آسمان پر جس پر کالے بادل منڈلا رہے تھے۔ اس سے بڑھ کر انھیں یہ بھی احساس تھا کہ اگر سفر اور یہ جنگ کامیاب رہی تو عمان اور افریقہ کے ایک دور دراز کونے میں واقع چھوٹا سا ملک عمان اور پھر افریقہ پربلوچ دنیا کی تاریخ کا ایک نیا ورق الٹنے میں وہ کامیاب ہو جائیں گے.


دنیا کی تاریخ ایک نئی کروٹ لے گی۔ ساحل پر وہ دیر تک کھڑے ان بادبانی کشتیوں کو اس وقت تک تکتے رہے جب ان کے ہیولے اور پرچھائیاں رات کی سیاہی سے مٹ گئیں. صرف سمندر کی موجوں کی آواز اور لہروں کی موتی جیسی چمک کے سوا کچھ نہ رہا۔


بلوچ سپاہیوں نے شکست خوردہ شہزادے کے ساتھ مل کر بڑی جرات اور بہادری سے عربوں سے لڑتے رہے. ان کے قبضہ گیربھائی کو مسقط کے قلعے میں محصور کرکے مسقط پر قبضہ کیا۔ کمانڈرمیران اور جلال خان نے دونوں قلعوں پر قبضہ کیا. آج بھی یہ دونوں قلعوں پر ان کے نام لکھے ہوئے ہیں. ایک قلعہ میرانی اور دوسرا جلالی کے نام پر مشہور ہیں لیکن سلطان بن احمد آل سعید نے گوادر کو نہیں چھوڑا. گوادر کو سلطنت آف عمان کے ایک صوبہ کی حیثیت دی اور اپنے ایک عرب والی (گورنر) کو گوادر پر تعینات کردیا.


 

پھر انہوں نے اپنے وفادار بلوچ کمانڈروں کے ساتھ مل کرافریقہ کے ملک تنزانیہ پر چڑھائی کی. بلوچ سردار کو وہاں کا حاکم بنایا. آگے بڑھ کر انہوں نے افریقہ کے ملک کینیا کے صوبہ ممباسہ پر بھی قبضہ کیا. وہاں بھی ایک بلوچ سردار کو حاکم بنایا. 1964 تک ان دونوں ملکوں پرعمان کا قبضّہ برقرار تھا. پھر سلطان قابوس کے والد سلطان سعید بن تیمور نے تنزانیہ کا جزیرہ زنجبار اور ممباسیہ کو بھی آزاد کیا. ان کے باشندوں کو بھی عمانی شہریت دی جو سوحلی زبان بولتے ہیں. بلوچ بھی وہاں اپنی مادری زبان کے ساتھ ساتھ عربی اورسوحلی زبان بولتے ہیں اب بھی وہی پر مقیم ہیں۔



گوادر شاہی بازار کے تاجر سری لنکا میں بحری جہازوں سے خشک مچھلیاں اور جھینگے ایکسپورٹ کرتے تھے اوروہاں سے مسالہ جات، چائے پتی وغیرہ منگواتے تھے جبکہ ہندو تاجر زیادہ تر کپڑے، آٹا، چاول، چینی دیگر مختلف اناج، ادویات، پشم، کپاس، ریشمی کپڑے، اون، سونے کے مختلف سیٹ کچھ انڈیا کے کچھیوں سے منگواتے تھے. مسالہ جات، الائچی اور خشک کھجوریں اور ناریل، تمباکو اور دیگر اشیا کی بھی تجارت کیا کرتے تھے. بلوچ مشاق ملاح بڑی بڑی بادبانی کشتیوں سے مسقط، دبئی، بصرہ عراق، عدن اور افریقہ کے ممالک میں تنزانیہ اور ممباسہ اور پھر گوادر سے کراچی اور ہندوستان کے شہر کالی کٹ، بمبی، سری لنکا سے خورونوش کا سامان جس میں اعلیٰ کوالٹی کی چائے، مسا لہ جات، خشک دودھ شامل ہوتا، برآمد کرتے تھے.


 

بر صغیر پاک و ہند سے آٹا، اناج، مختلف دالیں اور اعلیٰ قسم کے باسمتی چاول، گھی، عمارتی لکڑیاں، گھروں کی آرائش و زیبائش اورسجاوٹ کا جدید سامان ، فرنیچر، رنگ و روغن، وائٹ سیمنٹ، چونا، کھیلوں کا سامان، اسکولوں کی نصابی کتب، قصّے کہانیوں کی اردو، عربی اور فارسی کی کتابیں، کاپیاں اور رجسٹرر اور کشتی سازی کے ہر قسم کا سامان ودیگرہندوستان کے تاجر لاتے تھے.


بہترین اقسام کی کھجور اور چھوارے بصرہ عراق سے عرب تاجر لاتے تھے۔ کمال تو یہ تھا کہ اس زمانے کے ناخداوں میں ناخدا عبداللہ، ناخدا قاسم، نا خدا حسین اورناخدا گل محمد گلی و دیگر بغیر کسی کمپاس و نقشے کے صرف رات کو ستاروں اور دن کو سورج کی روشنی، اور لہروں کے اُتار چڑھاؤ سے اپنے خاص مقامات اور اپنی منزل کا تعین کرتے تھے. بعد میں جب ریڈیو ایجاد ہوا تو اس کی آواز کے سمت سے وہ اپنا مقام آسانی سے ڈھونڈ لیتے تھے اور وقت کی بھی بچت ہوتی تھی۔ بادبانی کشتیوں سے گوادر اور دیگر تمام علاقوں اور ملکوں کے لوگ مختلف ملکوں کے حجاج جدہ سعودیہ کے لیے بھی کئی کئی دنوں گوادر میں اپنی باری کا انتظار کرتے تھے. .پھرجب BIC برٹش انڈیا کمپنی کے بحری جہازوں کی آمد و رفت کا سلسلہ اور دور شروع ہوا تو جیسے ایک نئے معاشی انقلاب نے جنم لیا.


یہ بحری جہاز گوادر سے چین تک اور گوادر سے خلیج کے مختلف ممالک اور افریقہ سے یورپ تک 10 سے 15 اور 20 دنوں کے

انتظار کرنے کے بعد دوبارہ گوادر کے ساحل پر لنگر اندا ز ہوجاتے تھے۔


 

استاد امام بخش اس سلسلے میں کہتے ہیں کہ گوادر کے عمانی شہری کراچی اور مسقط کے لیے گوادر کے مقامی کرایہ رعایتی قیمتوں پر ٹکٹ حاصل کر سکتے تھے۔ بحری سفر کا کرایہ انتہائی سستا صرف انڈین دس روپے میں مل سکتا تھا۔ جس میں رات کا کھانا اور صبح کا ناشتہ بھی شامل تھا۔ اتنے بڑے بحری جہاز میں مسافروں کے لیے برتھ ہوتے تھے اور جو دور کے مسافر تھے ان کے لیے لگژری کمرے بنے ہوئے تھے اور ان کا کرایہ کچھ زیادہ تھا۔ یہ بحری جہاز انتہائی صاف ستھرے ہوتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان مسافر اور کارگو بحری جہازوں میں اشیاء خورونوش اور ملبوسات سے بھری خوبصورت دکانوں کے باہر لمبی قطاریں لگی ہوتی تھیں۔ سفر کے دوران آپ آرام سے شاپنگ بھی کرسکتے تھے۔


ان دکانوں میں چائنہ، کورین اور جاپانی مصنوعات میں بہترین ریشمی، اونی اور کاٹن کپڑے، الیکٹرانک سامان میں ریڈیو، مونو گرام، الیکٹرک استری، گرینڈر اور دیگر اشیا میں بہترین تمباکو سگاراورقیمتی سگریٹ، صابن، کپڑے دھونے کے واشنگ پاوڈر، ہر قسم کے سینٹ مختلف برانڈ کی وائن اورمختلف گفٹ اوراعلیٰ کوالٹی کے بسکٹ، کافی، چاکلیٹ اور دیگر ہزاروں آئٹم موجود ہوتے تھے. یہ دکاندارعرب اورانڈین تھے. یہ جس شہر میں لنگر انداز ہوتے وہاں سے یہی تاجر اعلیٰ اقسام کی چیزیں خرید کر اپنی دکانوں کو بھر لیتے تھے اور مسافر گاہک خود بخود أن کی جانب کینچھے چلے جاتے تھے۔


ان بحری جہازوں کے سفر میں کسی کو یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ وہ کسی سمندر میں سفر کر رہا ہے۔ (راقم نے بچپن میں گوادر-کراچی اور کراچی- گوادر کا بحری سفر کیا تھا). بحری جہاز سمندر کا سینہ چیر کر آپ کی منزل کی جانب رواں دواں ہے. اس دوران گہرے سمندر میں بڑی بڑی شارک اور وہیل مچھلیاں جہاز کے ساتھ ساتھ ڈبکیاں کھاتی، جھمپ لگاتی اوراپنے خوبصوت انداز سے مسافروں کے دل کو لبھاتی ہوئی بہترین منظرپیش کرتی ہیں. اس دوران کچھ انگریزاپنے پرانے کیمروں سے ان کی تصاویر لینے میں مشغول ہوتے نظر آتے یا کانٹے سے مچھلیوں کا شکار کر رہے ہوتے تھے یا بے نیاز کسی انگریزی کتاب کے مطالعے میں اتنے مصروف ہوتے تھے کہ انہیں دنیا

و جہاں کی کوئی فکر ہی نہیں ہوتی۔


جب جون اور جولائی کا مہینہ ہوتا تو سمندر کی لہریں بہت اونچی ہو جاتی تھیں جس سے جہاز کچھ معمولی انداز سے ڈھولتے تھے. ورنہ پورے سال کسی کو یہ پتہ نہیں کہ وہ کسی گہرے سمندر میں محو سفر ہے۔ میں اگر یہ نہ کہوں تو شاید ناانصافی ہوگی کہ اُس دور میں بلوچ خواتین تاجران بحری جہازوں سے مختلف ممالک میں مردوں کے ساتھ ساتھ تجارت کیا کرتی تھیں، خصوصاً بلوچ خواتین خوبصورت کپڑوں اوردیگرآرائش وزیبائش و میک اپ کے سامان سینٹ، خوشبو، عطر، لوبان کی تجارت میں گوادرسے مسقط، دبئی، قطر، بحرین، سعودیہ، کویت اور بصرہ تک کی سفر کیا کرتی تھیں۔


(جاری ہے)

Comments

Popular posts from this blog

قسط نمبر 5 کراچی کرایہ کا فلیٹ اور شیدی ولیج روڈ

پہلی بار پاکستان کوسٹ گارڈز میں صرف بلوچستان کے نوجوانوں کو بھرتی کیا جائیگا لیفٹیننٹ کرنل جاوید حسین

گوادر شاہی بازار میں مذہبی رواداری