گوادر شاہی بازار سلطنت آ ف عمان
تحریر: سلیمان ہاشم
ماسٹر امام بخش صاحب کہہ رہے تھے کہ گوادر میں کچھ نوجوان انقلابی ذہییت سے تعلق رکھتے تھے لیکن عمان سرکار ٱن سے خوش نہیں تھی۔ ہمارے ہیڈ ماسٹر محمد یوسف بلوچ کا تعلق کراچی سے تھا. اس سلسلے میں گوادر کے بلدیہ کے ایڈمنسٹریٹر مسٹر وین سعدیہ مدرسہ میں انگریزی کے ٹیچر تھے. ایک دن وہ ان نوجوانوں کے بارے میں کچھ زیادہ پریشان نظر آرہے تھے اور اسکول کے ہیڈ ماسٹر یوسف صاحب سے بات کر رہے تھے. ہیڈماسٹر نے انہیں مطمئن کیا کہ ان سے اسٹیٹ کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ آپ خواہ مخواہ پریشان نہ ہوں۔
میں نے سوال کیا سر گوادر شاہی بازار جو ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اس کے بچنے کی کوئی صورت یا اس کا مستقبل آپ کو کیسے نظر آ رہا ہے؟ استاد نے جواب دیا کہ جب گوادر پاکستان میں شامل کیا گیا تو کچھ دنوں کے بعد جیسے ایک لشکر نما تاجروں کی صورت میں گوادر میں ایسے داخل ہوا جیسے ٹڈی دل جب سر سبز و شاداب کھیتوں، کلیانوں، گھاس پھونس اور فصلوں کو گھنٹوں میں ایسا صفایا کر لیتے ہیں جیسے یہ زمین ہمشہ بنجر تھی۔
ان لوگوں کے پاس کافی پیسہ تھا. اسی طرح اس لشکر نے گوادر شاہی بازار میں کوئی چیز نہیں چھوڑی. یہاں تک کے راشن میں شکر، گھی، آٹا اور بہترین باسمتی چاول تک نہ چھوڑا. گوادر کے مستقل باشندوں کو کئی دنوں تک بھوک و افلاس کے دن گزارنے پڑے. وہ بھوک و افلاس کے شکار ر ہوئے۔ لانچوں کے لانچ بھربھر کر کراچی لے گئے۔ گوادر کے قدیم باشندوں کو بازار سرمایہ داروں کے ہاتھوں لٹنے کے بعد گوادریوں کو دن میں تارے نظر آنے لگے۔
قدیم پوسٹ آفس گوادر
لوگ سراسیمگی کی حالت میں تھے. اسی دن ہم نے محسوس کیا اور خوب محسوس کیا. ہمارے خدشات بڑھتے گئے. آپ ان دکانوں اور ان اجڑے ہوئے گھروں کی بات کرتے ہو؟ یہاں لوگوں نے کوئی سرکاری زمین نہ چھوڑی. یہاں کے قدیم باشندے بے گھر تھے. کئی کئی افراد ایک چھت کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور تھے اس کو بھی اللہ کی دین سمجھتے تھے۔ لیکن مطمئن تھے. ان کو مال و زر کی ہوس نہ تھی، وہ ان پڑھ جاہل گنوار تھے لیکن ان پڑھے لکھے حکمرانوں سے کئی درجہ بہتر انسان تھے.
میں اس شاہی بازار کے مستقبل کو تاریک دیکھ رہا ہوں. ان کے اصل مالک یہاں موجود نہیں ہیں. شاید انہوں نے ان کو اپنے رشتہ داروں کے حوالے کیے ہیں. خصوصاً گوادر کے وہ عمانی باشندے جو خلیج میں روزگار کی وجہ سے پھنس چکے ہیں، ان کی اکثریت گوادر میں اس وقت موجود نہیں ہے اور زیادہ تر اسماعیلی کھوجاؤں کی ملکیت ہیں. چند ایک یہاں رہتے ہیں اور وہ اس انتظار میں ہیں کہ ایک دن ان کی قیمتیں آسمان کی بلندیوں کو چھولیں گے تو وہ ان کو باہر سے آنے ولے سرمایہ داروں کو فروخت کرکے راتوں رات ارب کرب پتی بننے میں دیر نہیں ہوگی۔
جو دکانیں مقامی بلوچوں کی ملکیت میں تھیں انہوں نے ان کو توڑا اور ان کو از سر نو جس انداز سے تعمیر کیا ہے یہ عمانی طرز تعمیر سے مطابقت ہر گز نہیں رکھتی ہیں. ان کے اس طرح ٹوٹ پھوٹ سے مجھے بڑا دکھ اور بڑاافسوس ہوتا ہے۔
سلطنت دور کا تیل ڈپو کا مرکز ”تیلی بنگلہ“ اب کہاں رہا. انگریزوں اور پارسیوں کے قبرستان کا نئی نسل کو پتہ ہی نہیں کہ یہ کہاں پرتھا ۔
پرتگالیوں اور سلطنت کے دور کے کوہ باتیل پر نصب توپ سڑ گئے یا غائب ہو گئے۔ اسی طرح والی ” گورنر“ ہاوس، پرانا 18ویں صدی کا بہترین رسل و رسائل کا ذریعہ، انمول شاہکار ڈاک خانہ برٹش کے بنائے ہوئے، تار آفیس، برٹش دور کا سترویں صدی کا بر ٹش کونسل خانہ، ٹیلی گراف آفس آدھا سمندر کھا گیا، آدھا ہیرونچیوں کی آرام گاہ بن گیا یا اثر و رسوخ کی بنیاد پر اکثر آنے والے باہر کے بیوروکریٹس نے قبضہ کیا. اب آہستہ آہستہ ان کے آثار غائب ہوتے جا رہے ہیں.
نئی نسل کو کچھ بھی پتہ نہیں کہ یہاں پر ایک بہت بڑی تیل ذخیرہ کرنے کی جگہ تھی جہاں ہوائی جہازوں کے لیے تیل اور آئل رکھا جاتا تھا. چھوٹے جہاز سورگ دل گراؤنڈ میں اترتے تھے اور بڑے ائیر کرافٹ گھٹی ڈور سے آگے کے کچے ائیر پورٹ پر اترتے تھے. یہ زیادہ تر جنگ عظیم میں استعمال ہونے والے جہاز تھے جو گوادر اور جیوانی میں برطانیہ کے زیر تحت تھے۔ کچھ ایسے ائیر کرافٹ بھی ہوتے تھے جو مسقط سے اُڑ کر سمندر کے ساحل پر پانی میں اُترتے تھے. ہمارے زمانے میں مال بردار بڑے ہوائی جہاز نہیں آتے تھے. صرف ایمرجنسی میں کبھی کبھار یہ ائیر کرافٹ آتے تھے. مال برداری کے لیے 18ویں صدی میں بحری جہازوں کا استعمال شروع ہوا۔
برٹش انڈیا کمپنی آفس (BICO)
ہماری پیدائیش سے پہلے غالباً 18ویں صدی میں برٹش انڈیا کمپنی کا دفتر گوادر میں کھلا۔
بحری جہازوں کی آمد و رفت شروع ہوئی تھی. یہ مال برداری کے علاوہ مسافروں کو یورپ، افریقہ اور ایشیا لندن، تنزانیہ، ممباسہ، یمن، صلالہ، مسقط اور گواد پورٹ سے کراچی، بمبئی اور سری لنکا، چائنا تک جاتے تھے اور واپس اسی راستے سے دوبارہ گوادر آتے تھے. ان مسافر بردار اور مال بردارجہازوں میں دنیا جہاں کی تجارتی اشیا بھی لائی جاتی تھیں. ساحل سے دس یا بارہ ناٹیکل میل دور گہرے سمندر میں لنگر انداز ہوتے تھے اور پھر گوادر کسٹم سے چھوٹی بڑی بادبانی کشتیاں ان بحری جہازوں کے ساتھ ٹچ ہو کر مسافروں اور دیگر تجارتی سامان ساحل کنارے کسٹم پر لے آتی تھیں۔ (جاری ہے)
Comments
Post a Comment