حق دو تحریک کا سر بندن میں خطاب میں سیاستدان ہوں میں سیاست کروں گا جو ایک عبادت ہے انسانیت کی خدمت ہے۔


سربندن (نامہ نگار) حق دو تحریک کا سربندن میں پاور شو۔ حق دو تحریک سربندن کے رہنما سمیت حسین واڈیلہ اور حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمن نے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں معلوم نہیں ہے یہ کیسا ملک ہے۔ جہاں نہ ہسپتال ہے نہ اسکول ہے نہ کوئی اچھی سڑکیں ہیں۔ یہاں بس لٹیرے حکمران بیٹھے ہیں۔ پچپن ارب روپے کے بجٹ میں ائیرپورٹ کو تعمیر کیا جارہا ہے۔ بائیس ارب روپے کے بجٹ سے ایکسپریس وے  بنا رہے ہیں۔ جن سے یہاں کے عوام کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔ جبکہ اس وقت ہمیں ہسپتال چاہیے ہمیں اسکول چاہیے  ہمیں  پڑھنے دیا جاے۔ بد قسمتی سے ہمیں چیک پوسٹیں ملی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ چالیس سالوں سے ایک ٹولہ گوادر پر مسلط کیا گیاہے۔ ہماری تحریک سے اگر کسی کو کوئی مسئلہ ہے وہ بی این پی ہے۔ بی این پی نے غریب بلوچوں کے نام پر دو ارب روپے بٹور لیے ہیں۔ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہم سیاست کررہے ہیں۔ مولانا ہدایت الرحمن نے کہا میں واضح طور پر کہتا ہوں ہاں ہم سیاست کررہے ہیں۔ اور کریں گے۔ سیاست عبادت ہے۔ انھوں نے بتایا کہ کوسٹ گارڈ کو ساحل کے تحفظ کے لیے بنایا گیا ہے۔ لیکن وہ گھی اور تیل کے پیچھے  اپنی توانائی خرچ کررہی ہے ۔ 
حکومت لوگوں کو روزگار کرنے دے۔یا روزگار کے دیگر قانونی ذرائع تلاش کرے۔ سربندن کے چاروں اطراف پر فورسز کے کیمپ بنائے گئے ہیں ان کو بھی گھی اور تیل دکھائی دیتی ہے لیکن وہ منشیات کو نہیں دیکھ سکتے ہیں۔ ہم پولیس کو دو ٹوک الفاظ سے کہتے ہیں کہ وہ منشیات کی روک تھام کرے۔ انھوں نے کہا کہ پسنی میں ہم نے ڈرگ مافیا کو ختم کیاہے۔
 پسنی کے ماہیگیروں نے سات دن تک دھرنا دے کر ڈرگ مافیا کو ختم کیا۔ پسنی میں ایک مافیا غریب ماہیگیروں پر اپنا راج چلا رہا تھا۔ انھوں نے غریب ماہیگیروں کو ہراساں بھی کیا ہے۔ انھوں نے ایف سی اور پولیس کے ہاتھوں ماہیگیروں کو لاٹھی چارج بھی کرایا۔ اب پسنی کے عوام آپس میں دست گریباں  نہیں ہوں گے۔ 
ضلع گوادر کے ماہیگیر ہر جگہ ماہیگیری کریں۔ بارڈر اور ماہیگیروں کو کام کرنے دیا جاۓ۔ انھوں نے کہا کہ سی پیک کے پیسوں سے میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، موٹر وے بنایا گیا ہے لیکن بلوچستان میں ایک اچھا اور معیاری ہسپتال نہیں بناگیا ہے۔ بائیس ارب روپے سے ایکسپریس وے روڈ تعمیر کیا جارہا ہے۔ ان سے یہاں کے عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔ اس کے بدلے ان پیسوں سے بلوچستان میں ایک بہتر ہسپتال تعمیر کیا جاتا۔ 
ہمیشہ بلوچستان کو لاوارث چھوڑ دیا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کہ ہم ڈی سی گوادر کو بذریعہ لیٹر کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے نیوی کی کیمپ کی جانب اشارہ کرکے کہہ گئے وہ اس کیمپ کو سربندن سے فارغ کرے۔ انھوں نے کہا کہ ہم کل گوادر میں حق دو تحریک کے مرکزی دفتر کا افتتاح کررہے ہیں۔ ہر یوسی، تحصیل اور ضلع سے حق دو تحریک کا دفتر بنائیں گے۔

Comments

Popular posts from this blog

قسط نمبر 5 کراچی کرایہ کا فلیٹ اور شیدی ولیج روڈ

پہلی بار پاکستان کوسٹ گارڈز میں صرف بلوچستان کے نوجوانوں کو بھرتی کیا جائیگا لیفٹیننٹ کرنل جاوید حسین

گوادر شاہی بازار میں مذہبی رواداری