گوادر جیوز ماہانہ ادبی پروگرام
فنی و ادبی حال / گوادر ایجوکیشنل ویلفیئر سوسائٹی کی جانب سے ادبی دیوان کا انعقاد
گوادر ایجوکیشنل ویلفیئر سوسائٹی کی جانب سے ادبی دیوان کا انعقادِ۔ یکم اپریل, 2022 فنی و ادبی حال
سلیمان ہاشم
ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو گوادر ایجوکیشنل ویلفیئر سوسائٹی کی جانب سے ادبی دیوان کا انعقاد ہوتا رہتا ہے۔ اس بار بھی یکم اپریل کی خوشگوار شام کو زیرصدارت جیوز کے ڈپٹی آرگنائزر
عارف نور کے جیوز کار گس میں تقریب کا انعقاد ہوا. تقریب کے مہمان خصوصی شاہ میر دیدگ تھے۔ شاہ میر دیدگ نے بلوچستان یونیورسٹی کے شعبہ بلوچی سے ماسٹر کیا ہے۔ اور کچھ عرصہ اسکول میں ٹیچنگ بھی کی ہے۔ پروگرام کے نظامت کے فرائض جیوز کے رزاق تحسین نے ادا کیے۔ انہوں نے کہا کہ جیوز نے منشی پریم چند کے کتابوں کو بلوچی زبان میں ترجمہ کی ہے۔ آ پ یہ کتب جیوز سے حاصل کر سکتے ہیں۔
اس تقریب کے پہلے نثری حصے میں بلوچی زبان و ادب کے درخشان ستارے اور استاد چند ساچ نے بلوچی میں ایک بہترین افسانہ پیش کی۔
جے ایم آ زاد نے بھی بلوچی زبان میں ایک افسانہ پیش کی اور نثری حصہ کے
آخری مقرر مشہور و معروف افسانہ نگار اور ادیب رفیق زاہد تھے۔ شرکاء نے انہیں بڑے انہماک سے سنا اور خوب داد دی۔
.
دوسرے حصّے میں شاعری کا دور چلا۔ شعرا میں رزاق تحسین،قدیرکلانچی،ولید مراد،
کے ڈی نایاب (اردو), فیض بائیان، صدام الطاف، خالد ہما ( اردو) اور اصغر ملنگ شامل تھے۔ شرکا نے خوب تالیاں بجا کر انہیں داد دی.
آخری حصے میں مہمان خاص شاہ میر دیدگ نے اپنے خطاب میں کہا کہ کے بی فراق کو ہر ماه کئی سالوں سے مسلسل ایسے ادبی پروگرام منانے پر خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ انہوں نے سخت محنت کر کے 2006 میں ایک چھوٹی لائبریری بنائی. اب اس لائبریری میں ہر موضوع کے ہزاروں کتب موجود ہیں. اور آج میں جو بھی ہوں میں اس ادارے کے آ رگنائز کا ممنون و مشکور ہوں ان کے اشعار اور ان کے تعاون سے جو تیسز میں نے تحریر کئے اس سے میں نے ایم اے فرسٹ پوزیشن حاصل کی اس کی تمام کریڈٹ کے بی فراق کو جاتا ہے۔
صدر مجلس اور ڈپٹی
آرگنائزر عارف نور نے اپنے خطاب میں کہا ایسے مجلسوں کا اہم اور بنیادی مقصد علم و آگاہی میں اضافہ کرنا ہوتا ہے. یہاں ہر کوئی سیکھنے کے عمل سے گزر رہا ہے. ہماری کوشش ہے کہ یہاں نثری حصّے میں نوجوان زیادہ تعداد میں آئیں. اس ماہ کی پہلی تاریخ کو نوجوانوں نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے. اس فکر، سوچ اور وژن کو اور آگے بڑھانا ہے. ہمارا مقصد سیکھنے کے عمل کو مزید تیز اور بہتر کرنا ہے.
انہوں نے کہا کہ شاہمیر جیسے تعلیم یافتہ نوجوان ہمارے سرمایہ ہیں، ایسے مجلسوں میں ان کی شرکت سے دیگر نوجوانوں کو حوصلہ ملتا ہے۔
، ایسی تقریبات سے علم میں اضافہ ہوتا ہے. اگر ہم اپنے اس مقصد میں کامیاب ہوئے تو ہمیں خوشی ہوگی اور اگر ناکام ہوئے تو ہمیں افسوس ہوگا. آپ لوگوں کی رائے کے متمنی ہیں۔
جو نوجوان یہاں آتے ہیں اور سیکھتے ہیں ہم ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ہم ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے تسلسل کے ساتھ پروگرام مناتے آ رہے ہیں۔ امید ہے کہ ان کی جدوجہد اسی طرح جاری رہے گا۔
جیوز ایک سوشل ادارہ ہے۔ گزشتہ دنوں طوفانی بارشوں سے اس ادارے کو کافی نقصان پہنچا۔ ہماری کئئ قیمتی کتب ضائع ہوگئیں۔ لیکن ہمارے حوصلے بلند ہیں۔
آخر میں نظامت کے فرائص انجام دیتے ہوئے رزاق تحسین نے مہمان خاص اور دیگر تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا۔



Comments
Post a Comment