وفاقی وزیر کا دورہ گوادر
وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات احسن اقبال کا گوادر میں مختلف منصوبوں کا دورہ کیا۔ وہ گوادر یونیورسٹی میں پہنچے تو وائس چانسلر ڈاکٹر عبدالرزاق نے ان کا اسقبال کیا۔
,,انہوں نے یونیورسٹی کے احاطے میں پودا لگایا یونیورسٹی کے سیمینار ھال میں گوادر کے طلبا و طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو منصوبے ہم نے 2013 میں شروع کئے تھے وہ ہماری حکومت کے خاتمے کے بعد التوا کے شکار ہوگئے۔
گوادر یونیورسٹی کا قیام سے تعلیم کا ریشو کافی بہتر ہوئی ہے گوادر کی بچیوں کو دیکھکر امید کی جاسکتی کہ گوادر کا مستقبل روشن ہے۔ یہ بچے ہیں پاکستان کے کسی بھی علاقے کے بچوں سے کم نہیں، سی پیک کے کافی منصوبے جب مکمل ہونگے تو گوادر ایک نئے اور جدید روپ میں نظر ائے گا۔ اب بھی چند سالوں میں گوادر کافی آگے بڑ چکی ہے۔
مجھے خوشی ہے کہ میں آج دوبارہ گوادر کے طلبا و طالبات سے دوبارہ ملاقات کی ہے۔ جس زمانے میں ہم گوادر ائے تھے پی سی ہوٹل بند پڑاتھا ہم نے گزشتہ ادوار میں ہم نے گوادر کو ترقی سے ہمکنار کرنے کے کئ منصوبے شروع کئے تھے۔ حالات کافی اچھے تھےلوگ رات کے دس بارہ بجے تک امن کے ساتھ گھوم پھر سکتے تھے۔
ہم س ترقی کے عمل میں نوجوانوں کو شامل کرنا چاہتے ہیں۔ یونیورسٹی اور تعلیمی ادارے بنانے ہیں تاکہ یہاں کے نوجوان اعلی تعلیم حاصل کریں۔ ہم نے یہاں کے نوجوانوں کو بہتر تعلیمی سہولیات سے ہمکنار کی بلوچستان کے مختلف اضلاع میں پشین، نوشکی۔ خصدار لورالائی اور تربت میں یونیورسٹیاں بنانے کے علاوہ کوئٹہ میں بیوٹن یونیورسٹی ڈیرہ مراد جمالی اور دیگر علاقوں میں بھی یونیورسٹیاں بننے سے ہم سمجھتے ہیں کہ تعلیم ہی ترقی کی ضامن ہے۔ اس سے نوجوان ترقی کی راہیں خود تلاش کر سکتے ہیں۔ ہیومین ریسورس کو ترقی دینی ہوگی۔
ہمرا پان تھا کہ گوادر یونیورسٹی کو 500ایکڑ اگر 2018 کو ہماری حکومت سے ہماری حکومت نہ ہوتی تو یقینا گوادر یونیورسٹی اپنے ہی کیمس میں مکمل ہوتا۔ گوادر ہی سی پیک کا گیٹ وے ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ گوادر یونیورسٹی چائینا کی لیڈ سسٹر ہے ایس ایکسچینج کوالٹی ریسرچ کے لئے گوادر یونیورسٹی ایک دن اس کے ہم پلہ بنے گا۔۔
اعلی تعلیم کے بغیر ترقی کا عمل رک جاتا ہے۔ گوادر یونیورسٹی کو سنٹر آف ایکسیلنس بنائینگے۔ جو نہ صرف سی پیک بلکہ پورے صوبے اور ملک کے لئے کارآمد مین پاور مہیا کرے گی۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقیات اور خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے یونیورسٹی آف گوادر کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا.
یونیورسٹی آف گوادر کے زیر اہتمام 17 مئی 2022 کو یونیورسٹی سیمنار ھال میں تقریب کا انعقاد کیا گیا جس کے مہمان خصوصی وفاقی وزیر احسن اقبال تھے انہوں نے اس موقع پر یونیورسٹی اف گوادر کے اساتذہ اور طلبا سے بھی خطاب کیا۔
اس موقع پر چیف سیکرٹری بلوچستان جناب عبدالعزیز عقیلی، سیکرٹری پلاننگ داود محمد، ایم این اے گوادر محمد اسلم بھوتانی ، ایڈوائزر پی اینڈ ڈی کموڈور جواد اختر کھوکر، کمشنر مکران شبیر احمد مینگل، چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی نصیر احمد کاشانی، ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے مجیب الرحمان قمبرانی، کیپٹن ریٹائرڈ جمیل احمد ڈپٹی کمشنر گوادر کے علاوہ مختلف وفاقی اور صوبائی محکموں کے سربراہ اور دیگر افسران، اساتذہ اور طلبہ بھی موجود تھے۔
تقریب کے دوران اپنے خطاب میں وفاقی وزیر برائے پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ اور خصوصی اقدام پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ تعصب اور عصبیت کی سوچ کا مقابلہ علم سے کیا جا سکتا ہے۔ علم اور تحقیق اور جستجو سے دنیا میں ترقی ممکن ہے۔ انہون نے کہا کہ جناب شہباز شریف کی قیادت میں ہمارے گورنمنٹ کا وژن ہے کہ ہم انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ ہیومن ڈیولپمنٹ پر ترجیح دیں گے تاکہ بلوچستان کے ہر نوجوانوں کو اعلی تعلیم کے ساتھ ساتھ روشن مستقبل کے مواقع مل سکیں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی آف گوادر کے پی سی-1 کو ایک مہینے کے اندر اندر منظور کرینگے اور اگلے مالی سال کے بجٹ میں یونیورسٹی کے لیے فنڈز بھی مختص کیا جائے گا تاکہ دو سے تین سال کے اندر اندر یونیورسٹی کی بلڈنگ مکمل ہوکر تدریسی سرگرمیاں شروع ہوجائیں۔ اگر تعلیم نہیں ہوگی تو ترقی کا عمل رک جائے گا۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا گوادر یونیورسٹی کو سینٹر اف ایکسیلنس بنائینگے۔ تاکہ پاکستان میں میری ٹائمز افیرز کے لیے جس نے بھی ریسرچ کرنی ہو وہ یونیورسٹی اف گوادر میں تعلیم حاصل کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پچھلے گورنمنٹ میں اس مقصد کے لیے چائنا سے معاہدہ کر کے یہ طے کیا تھا کہ یونیورسٹی آف گوادر کی چین کے میری ٹائمز افیرز کے ساتھ اسٹرٹیجک پارٹنرشپ کی جائے گی تا کہ وہاں کے اساتذہ اور طلبہ یہاں پر آکر سمیسٹر ایکسچینج اسکالرشپ پروگرام میں حصہ لے سکیں۔ ہماری حکومت بلوچستان بھر کے طلباء کو اعلیٰ تعلیم اور بہترین سہولیات فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر نے اپنے استقبالیہ کلمات میں وفاقی وزیربرائے پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ پروفیسر احسن اقبال کا شکریہ ادا کیا کہ وہ گوادر یونیورسٹی کی ترقی میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں اور یونیورسٹی کو تعلیمی فروغ کے لیے لامتناہی تعاون اور معیاری اعلیٰ تعلیم کے لیے گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔
تقریب میں چیف سیکرٹری بلوچستان عبدالعزیز عقیلی، ایم این اے گوادر اسلم بھوتانی ، ایڈوائزر پی اینڈ ڈی کموڈور جواد اختر کھوکر، کمشنر مکران شبیر احمد مینگل، چئیرمین گوادر پورٹ اتھارٹی نصیر احمد کاشانی، ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے مجیب الرحمان قمبرانی، کیپٹن ریٹائرڈ جمیل احمد ڈپٹی کمشنر گوادر، یونیورسٹی کے رجسٹرار، دولت خان، دائرکٹر فنانس شفیع محمد بلوچ کے علاوہ دیگر گورنمنٹ افسران، اساتذہ اور طلبہ کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔ یونیورسٹی آف گوادر کے وائس چانسلر پروفیسر عبدالرزاق صابر نے تقریب کے آخر میں مہمانوں کو یونیورسٹی کی یادگاری شیلڈ پیش کی اور روایتی بلوچی چادر پہنائے۔ بعد ازاں وفاقی وزیر نے ایک الگ تقریب میں معززین شہر، صحافی، سول سوسائٹی، دینی رہنما ا.
وفاقی وزیر برائے منصوبہ ترقیات احسان اقبال گوادر کے دورہ پر پہنچ گئےوفاقی وزیر کے گوادر کے گوادر پہنچنے پر رکن قومی اسمبلی اسمبلی محمد اسلم بھوتانی چئیرمن گوادر پورٹ اتھارٹی نصیر خان کاشانی ڈائریکٹر جنرل ادارہ ترقیات گوادر مجیب الرحمٰن قمبرانی کمشنر مکران ڈویژن شبیر مینگل ڈپٹی کمشنر گوادر کپٹن ریٹائرڈ جمیل احمد سمیت دیگر صوبائی اور وفاقی احکام نے ان کا استقبال کیا وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقیات نے دورہ گوادر کے موقع پر یونیورسٹی آف گوادر کا دورہ کیا چمبر آف کامرس ، انجن تاجران عمائدین شہر سے بھی ملاقاتیں کیں انہوں نے سی پیک منصوبوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا اور وفاقی وزیر نے کہا ہے کہ ان کی حکومت ملکی معیشت کی ترقی کیلئے سی پیک منصوبے کلیدی اہمیت دیتی ہے ان منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل کو یقینی بنایا جائے گا وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقیات احسان اقبال نے کہا کہ چین ہمارا پرانا اور آزمودہ دوست ھے چینی سرمایہ کاروں کو ہر ممکن تحفظ فراہم کی جائے گی وفاقی وزیر نے کہا کہ سی پیک پاکستان کی ترقی کا منصوبہ ہے اس پر عمل درآمد اور بلوچستان اور خاص طور سے گوادر کے عوام کو اس سے زیادہ سے زیادہ مستفید کرنے کی ہر صورت پقنی بنایا جائے گا.
.......................................................
گوادر(بیورورپورٹ) گوادر پورٹ کے 40 سے زائد گوادر پورٹ کے عارضی ملازمین نے مستقلی کے لئیے درخواست پیش کردی ملازمین کا کہنا ہے کہ وہ گوادر پورٹ کے سی پیک سے متعلق مختلف منصوبوں میں گریڈ 1 سے لیکر گریڈ 16 تک کام کررہے ہیں ۔ وفاقی حکومت نے ہمیں عارضی طور پر کھپایا ہے اور کئی سالوں سے کام کررہے ہیں ہم میں سے بیشتر ملازمین زائد العمری کا شکار ہورہے ہیں اس حوالے سے ہمارے لئیے دیگر سرکاری محکموں میں کام کرنا مشکل ہوجائیگا۔اس وقت گوادر پورٹ میں مختلف گریڈ کی 100 سے زائد آسامیاں خالی پڑی ہوئی ہیں اور گزشتہ دو سال سے مشتہری کے منتظر ہیں۔ملازمین کا کہنا ہے کہ گوادر ڈیپ سی پورٹ کی تعمیر کے وقت ہمارے آباو اجداد نے اپنی زرخیز سمندر اور قیمتی مچھلیوں کی افزائش گاہ کی قربانیاں دی ہیں جبکہ صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے انھیں یقین دھانیاں کرائی ہیں کہ گوادر پورٹ میں مقامی لوگوں کے لئے روزگار کے وسیع ذرائع پیدا کریں گے لیکن حاصل ذرائع کو بروئے کار نہ لاکر مقامی نوجوانوں کو مایوسی اور محرومیوں کے دلدل میں پھینکا جارہا ہے۔موجودہ حکومت کے لئیے موقع ہے کہ وہ گوادر یوتھ اور گوادر پورٹ کے مختلف منصوبوں میں کام کرنے والے نوجوانوں کو کھپانے کے لئیے فوری اقدامات کے تحت روز گار اسکیم کی پیکیج بناکر علاقے کے لوگوں کے ساتھ انصاف کریں۔ملازمین نے درخواست کی کاپیاں ایم این اے ، سینیٹر کو بھی ارسال کیں اور گوادر کے دورے پر آئے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کو بھی کاپیاں پیش کردیں۔دریں اثناء گوادر عوامی اتحاد اور گوادر حق دو تحریک اور عوامی نمائندوں کی طرف سے گوادر پورٹ کے عارضی ملازمین کی مستقلی کی حمایت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ انھیں فوری طور پر مستقل کرنے کے احکامات صادر کریں۔
وفاقی حکومت گوادر کے بنیادی مسائل پر توجہ دے۔ نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر فیض نگوری اعلی سطح وفد کے اجلاس میں اظہار خیال۔ اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی سیکرٹری توانائی، چیف سیکریٹری بلوچستان اور دیگر حکام بھی شریک تھے۔ نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر نے حکومتی وفد کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ گوادر سی پیک کا دل ہے لیکن یہاں پر بنیادی سہولیات اور انفراسٹرکچر نامکمل ہیں۔ بجلی کا بحران مستقل طورپر قائم ہے۔ گوادر ایک ابھرتا ہوا شہر ہے لیکن یہاں پر بجلی جیسی بنیادی سہولت کے لئے منصوبہ بندی نہیں کی گئی گوادر بندرگاہ کی فعالیت کیسے ممکن بنایا جائے گا۔ گوادر شہر میں بنیادی اسٹراکچر کا یہ عالم ہے کہ یہ شہر معمولی بارشوں میں ڈوب جاتا ہے سڑکوں کی تعمیر کے لئے ڈاکٹر عبدالمالک کے دور حکومت میں جی ڈی اے کو اربوں روپے جاری کئے گئے لیکن شہر کی اہم سڑک سید ظہورشاہ ہاشمی ایونیو کا منصوبہ تعطل کا شکار ہے دکان اور نجی املاک مالکان کے تحفظات پر غور نہیں کیا جارہا۔ گوادر شہر میں گیس کی فراہمی کے لئے سیکڑوں لوگوں نے درخواستیں جمع کی ہیں جو التواء کا شکار ہیں۔ کنکشن کی تعداد میں اضافہ ہونے کے بعد ایل پی جی پلانٹ سے وافر مقدار سے گیس شہریوں کو گیس ملنا بھی مشکل ہوتا جارہا ہے۔ ضلع گوادر میں علاج و معالجہ اور تعلیم کی سہولیات بھی ناکافی ہیں۔ بلوچستان کے ساحل پر غیر ملکی ٹرالرز کو ڈیپ سی فشنگ کے لئے لائنس جاری کیا گیا ہے جو ماہی گیروں کے روزگار پر بدترین لٹکتی ہوئی تلوار ثابت ہوسکتی ہے جبکہ ملکی ٹرالرز کی شکار کے لئے قانون سازی کمزور ہے جس کا خمیازہ ماہی گیر اٹھا رہے ہیں۔گوادر میں بجلی بحران کے خاتمہ کے لئے ایران گوادر ٹو ففٹی بارڈر سے بجلی کی فراہمی کے منصوبے کو حتمی شکل دی جائے، گیس صارفین کے شکایات کے ازالہ کے لئے ایس ایس جی کا دفتر گوادر میں قائم کیا جائے، گوادر میں بنیادی سہولیات کی اور انفراسٹرکچر کی کمی کو دور کرنے کے لئے جامع منصوبہ بندی کی جائے، سید ظہورشاہ ہاشمی ایونیو سڑک کی تعمیر کو یقینی بنانے کے لئے دکان اور نجی املاک مالکان کو معاوضہ اور متبادل جگہ فراہم کیا جائے اور ماہی گیروں کے روزگار کے تحفظ کے لئے ڈیپ سی فشنگ پالیسی پر نظرثانی کی جائے۔




Comments
Post a Comment