گوادر میں پی ٹی ائی کا احتجاجی مظاہرہ
گوادر
پاکستان تحریک انصاف گوادر کی جانب سے گوادر کے مسائل پر شھداۓ جیونی چوک پر احتجاجی مظاھرہ کیا گیا ۔ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ھوۓ پی ٹی آئ ضلع گوادر کے صدر مولابخش مجاھد ۔ مکران ڈویژن کے رھنما غلام مصطفی رمضان اور نبی بخش بابر نے خطاب کرتے ھوۓ کہاکہ گوادر کو تباہی کے دھانے پر پہچانے کے زمہ دار نیشنل پارٹی ۔ ایم پی اے گوادر اور حق دو تحریک ہیں ۔ انھوں نے کھاکہ نیشنل پارٹی نے جب بھی بلدیہ کے چیئرمین شپ کی زمہ داری سنبھالی تو انکے سابقہ تینوں بلدیہ کے چیئرمینوں نے گوادر کے پلاٹوں کی بندر بانٹ اس حدتک کی کہ انہوں نے کراچی و ایران جاکر اپنے من پسند لوگوں کو پلاٹس دیۓ ہیں ۔ سابقہ وزیراعلی ڈاکٹر مالک نے ان کو بلدیہ کے ترقیاتی کاموں کے لیۓ انکو پندرہ کروڈ روپے دیۓ تھے لیکن انھوں نے وہ پیسے کام کرنے کے بجاۓ ھڑپ کرلیے خود کو قوم پرست کہنے والوں نے ٹھیکوں کے لیے جنگ کیۓ ہیں ۔ ایم پی اے گوادر نے نیوٹاؤن کے پلاٹوں پر گوادر کے غریب عوام کے حقوق غضب کرلیے ہیں اور انکے ساتھ غداری کی ہے ۔ دن بھر کام کرنے والے بوٹ میکروں کی بوٹ میکنگ والی زمین کو ایم پی اے نے اپنے نام کرلیا ہے ایم پی اے قوم کے مجرم ہیں ۔ انھوں نے کھاکہ ایم پی اے نے گوادر عوام کے ساتھ اتنا ظلم کیا ہے کہ وہ آنے والے جنرل الیکشن میں عوام کے ساتھ جان چھوڑ دے ۔
انہوں نے کہاکہ حق دو تحریک کے سربراہ کے قول و فعل میں تضاد ہے اسکی رات کی باتیں کچھ اور اور دن میں کچھ اور کہتاہے وہ لوگوں کو جن چیزوں کے لیۓ منع کرتے ہیں خود ہی وہی عمل کرتے ہیں ۔ پسنی کے قاتل و خفیہ اداروں کے لوگ حق دو تحریک کے بازوہیں اور وہ پسنی میں حق دو تحریک کے سربراہ کے شانہ بشانہ رہتےہیں ۔ حق دو تحریک اپنے جلسہ جلوسوں میں اتنے اخراجات کررہے ہیں یہ پیسے کھاں سے آرہے ہیں ھمیں بتایا اور مطمھن کیا جاۓ ۔ انھوں نے کھا کہ لوگوں سے قسم کھاکہ الیکشن نہ لڑنے کا کہہ کر حق دو تحریک کے سربراہ نے جنرل الیکشن اپنی جگہ بلدیاتی الیکشن میں حصہ لیا ہے ۔ کسی پارٹی کا صوبائ عھدیدار نے ایک تحریک بناکر بلدیاتی الیکشن میں حصہ لیا اور اپنی پارٹی کو پس پشت رکھ دیا ہے آیا وہ ہمیں بتادیں کہ کیا اسکی پارٹی میں عیب ہے یا حق دو تحریک غلط ہے ۔ گوادر کے مساھل پر لاکھوں لوگوں کوجمع کرنے کی ضرورت نہیں ضرورت اس امر کی ہےکہ عوام کے بنیادی مساھل پر عملی کردار ادا کرنا ۔ انھوں نے کھاکہ گوادر عوام کو ٹشو پیپر کی طرح استعمال کیاجارھا ہے ھمیں سیدھا اور ایماندارانہ سیاست کی ضرورت ہے ۔ انھوں نے کھاکہ عوام کسی کی بھکاؤ میں نہ آۓ بلکہ متحد و اتفاق کامظاہرہ کریں ۔ اتحاد واتفاق ہی تمام مساھل کا حل ہے ۔

Comments
Post a Comment