گوادر حق دو تحریک کاخواتین کی اغواء نما گرفتاری پر احتجاج
گوادر ،
بلوچ خواتین کی جبری گمشدگی اور سنگین اور جھوٹے الزامات کے خلاف حق دو تحریک کی احتجاجی ریلی اور مظاہرہ ،
بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں اتوار کے روز بلوچ خواتین کی جبری گمشدگی کے خلاف احتجاجی ریلی ملا موسی موڈ سے ہوتے ہوئے گوادر شہر کے مختلف شاہراہوں سے گزرتےہوتے ہوئے جب یہ جم غفیر شہدائے جیوانی چوک پر پہنچا اس نے جلسے کی صورت اختیار کی اور اس دوران شرکاء فلک شگاف نعروں سے مغویان کی بازیابی کا مطالبہ کر رہے تھے۔
حق دو تحریک کے کارکنوں اور شہریوں کی کثیرتعداد نے مولانا ہدایت الرحمان بلوچ اور حسین واڈیلہ کی قیادت میں ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے اور بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیوں کے خلاف نعرہ بازی کرتے ہوئے شہداء جیونی چوک پر گرمی اور حبس کے باوجود سینکڑوں لوگوں نے اس احتجاجی جلسے میں شرکت کی۔
اس موقع پر ہدایت الرحمان بلوچ، حسین واڈیلہ اور دیگر مقررین نے خطاب بھی کیا اور کہا کہ بلوچ معاشرہ میں خواتین کو زبردستی اغوا کرنا اور جھوٹے اور بھونڈے الزامات لگا کر غائب کرنا کہاں کا انصاف ہے، ہوشاپ اور کراچی سے نور جہان اور حبیبہ کی جبری گمشدگی بلوچ خواتین کی عزت پر حملہ تصور کیا جاتا ہےانہوں نے کہا کہ نور جہان کو باعزت رہا کیا جائے اس طرح کے عمل ناقابل قبول اور مجرمانہ فعل تصور کئے جاتے ہیں۔ اس طرح نفرت کو بڑھاوا ملتی ہے ان کا کہنا تھا کہ ہم الیکشن کی تیاریوں میں مصروف ہیں تو کوئی یہ نہ سمجھے کہ وہ ان مواقع پر ہماری مائوں بہنوں بیٹیوں کی عزت و غیرت پر حملہ ہے اور ہم خاموش تماشائی بن کر ظلم و جبر کو دیکھتے رہیں
اور نہ ہم چھپ رہیں گے، اگر الیکشن والے دن بھی ہماری بہنوں کی عزت و غیرت پر حملہ ہوا تو اس دن بھی ووٹ و الیکشن میں بھی بھر پور احتجاج کریں گے-
انہوں نے کہا کہ ہماری عزت و غیرت، ننگ و ناموس کسی بھی الیکشن سے کئی گنا زیادہ اہمیت رکھتا ہےانہوں نے کہا کہ یہاں جو لوگ سرفراز بگٹی، کہدہ بابر اور حمل کلمتی جیسے لوگوں کو عوامی نمائندے کہتے ہیں جنکو بلوچ اپنی بکریاں بھی چرانے کے لیے نہیں رکھتے جو سلکٹڈ ہیں۔
مقررین نے کہا کہ نواب بگٹی کی شہادت کے وقت اختر مینگل نے اسمبلی سے استعفیٰ دے دیا اب جبکہ بلوچ ماوں بہنوں اور بیٹیوں کی عزت و غیرت پر حملہ کیا جارہا ہے تو وہ خاموش تماشائی کا کردار کیوں کر ادا کر رہے ہیں ؟
اور حکومت کا حصہ بنے ہیں۔ کوئی احتجاج بھی نہیں کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جان بوجھ کرجبری گمشدگیوں اور خواتین کی گرفتاریوں سے خوف کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن اب بلوچ کسی سے نہیں ڈریں گے۔
مقررین اور ریلی کے شرکاء نے نور جہان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حق دو تحریک کا احتجاج جاری رہے گا اور بلوچ قوم کے ساتھ کسی قسم کی جبر پر خاموشی بلوچ قوم کے لئے حرام ہے۔ جب تک مغویوں کو بازیاب نہیں کیا جائے ہم چھین سے نہیں بیٹھیں گے۔

Comments
Post a Comment