گوادر سے لیکر پاکستان کے شمالی علاقے گلگت ہنزہ
شمالی علاقوں کا اسٹیڈی ٹور قسط
جون کی 6 کو گوادر سے کراچی جانے کے لئے الداود کوچ سے ٹورکے لئے ہم میں صرف چھ صحافی بذریعہ الداودکوچ سے نکلے اور
ایک بجے کے قریب اورماڈہ ہوٹل پہنچے دوستوں نے کھانا کھایا کچھ دوستوں نے کولڈ ڈرنکس لئےاور کچھ دوستوں نے چائے پیایا۔ اور کوچ اورماڑہ سے کراچی کی جانب بڑھتی رہی۔ شام کو کوچ حب پہنچ گئی وہاں ایک تیل ڈپو میں کچھ ڈرم ایرانی ڈیزل خالی کی گئی اور اس کے بعد الحبیب کوچ بھی اس مقام پر ایرانی ڈیزل خالی کرنے پہنچ گئی۔
یہ ان تمام کوچ کا معمول ہے کہ وہ گوادر سے ڈیزل لا کر حب میں بیچتے ہیں۔ ان ڈرائیور اور مالکان کا کہنا ہے کہ اس کے بغیر خرچہ پورا نہیں ہوتا ہے۔
ان کو کچھ منافع ملتا ہے۔
گوادر انتظامیہ کو بھی
معلوم ہے۔ لیکن اس پر گرفت مشکل ہے۔
سات بجکر 40 منٹ ہو چکے ہیں۔ ہم یوسف گوٹھ سے صدر زم زمہ ہوٹل پہنچے کمرے لئے نہا دھو کر نیچے اترے وہی قریب رات کا کھانا کھایا ایک گروپ کمرہ نمبر 301 دوسرا گروپ کمرہ نمبر 302 لفٹ کی سہولت موجود ہے لیکن ائیر کنڈیشنڈ نہیں ہیں۔7 جون کو صبح ناشتے کے بعددوسری منزل کی سواری کے لئے ہم تیاری کر رہے ہیں۔
کچھ دوستوں کا خیال تھا کہ ریل سے راولپنڈی جائیں گے کچھ اس پر متفق نہ تھے اتفاق سے ریلوے اسٹیشن پر کل کے لئے تمام سیٹ پہلے سے بک ہو چکے تھے،
مجبوراً تاج کمپلکس پر گئے جہاں بسوں کوچوں اور وینوں کا بڑا ہڈا ہے۔
کوچوں کے سیٹ بھی اچھے تھے لیکن کچھ دوست وین کی ڈیمانڈ کر رہے تھے۔اس لئے ایک وین کی بات چل رہی تھی۔۔۔۔۔ جاری


Comments
Post a Comment