بلوچ نوجوانوں کا کردار
گوادر رپورٹ سلیمان ہاشم حال احوال
پاکستان کی ترقی میں نوجوانوں کا
وہ نوجوان بھی کسی کام کے نہیں جن کے اساتذہ ان کے مضامین لکھکر اسٹیج پر بھیج دے یا رٹا لگا لگا کر لوگوں کو متاثر کرے نوجوان وہ قابل تحسین و تخلیق کار ہو
کردار کے موضوع پر گوادر سیول سوسائٹی کی جانب سے گوادر ڈسٹرکٹ ھال میں ایک سیمینار کا انعقاد ہوا جس میں مقررین گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیف انجنیئر سید محمد بلوچ، حق دو تحریک کے مولانا ہدایت الرحمان بلوچ، اے ڈی سی ذاکر علی بلوچ، کوسٹل ہائی وے کے ڈی ائی جی پولیس افیسر برکت کھوسہ، ماسٹر حسن الاسلام، سیول سوسائٹی کے کنوینر نزیر احمد بلوچ، چیرمین محمد جان و دیگر طلبہ و طالبات نے اپنے خطاب میں کہا کہ
پاکستان اُس وقت ترقی کے منازل طے کرے گی جب اس کے نوجوانوں کا ایک مثبت اور بہترین کردار ہوگا۔
نوجوان اس معاشرے کے اہم کردار رکن اور اس ملک کے مستقبل ہیں۔
حصول اقتدار کے لئے سیاسی لوگ ان کو استعمال کرنے کی بجائے ان کی حوصلہ افزائی کریں ان کی تعلیم و تربیت میں ان کا ساتھ دیں۔ ان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے۔
نوجوان دہشت گردی و بد امنی کا اچھی طرح مقابلہ کرنے کی قوت رکھتے ہیں۔
نوجوان قوم کی خوشحالی میں بہتر کردار ادا کر سکتے ہیں۔
اس ملک کے عوام ان نوجوانوں سے بہتری کی امیدیں اور توقعات وابستہ رکھتے ہیں۔ ان میں صلاحیت کی کمی نہیں بے۔ ان کو تراشنے اورپالیش کرنے کی ضرورت ہے۔
بات جب کرپشن کی اتی ہے تو کئی حکمرانوں کے گماشتے بڑے عہدوں پر بیٹھکر ملک و قوم کو لوٹ رہے ہیں۔ ان نوجوانوں نے ایسے ناسوروں کا خاتمہ کرنا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ کل کے مقابلے میں آج طلبہ انگریزی میں بہترین تقریریں کر سکتے ہیں کہ اب زمانہ تبدیل ہو چکا ہے۔ اب پرائیوٹ اسکول لینگویج سینٹر کھل چکے ہیں۔
نوجوانوں کو ترقی کا موقع ملناچاہیے کہ اس سوسائٹی اس معاشرے کے لئے بہترین خدمات انجام دے سکیں، اس دور میں نوجوانوں کی اکثریت ملک و قوم کی خدمت میں پیش پیش ہیں۔
جب بات ترقی کی آتی ہے تو ہم اپنے نوجوانوں کی طرف دیکھتے ہیں اس ملک کی آبادی 60فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ اسی طرح ملک کی ترقی کے عروج میں نوجوانوں کے کردار سے انکار ناممکن ہے۔
ملک کی بھاگ دوڑ ان نوجوانوں کو ہی سںنھبالنا ہے۔ ان کو چاہیے کہ وہ زراعت ہو یا سائنس و ٹیکنالوجی ہر شعبہ پر توجہ دیں۔
انہوں نے کہا کہ اس سر زمین کی آزادی میں ارض وطن کو غلامی سے آزادی کے لئے کئی قربانیاں دینی پڑی ہیں۔
افسوس کہ اج کے اس پر آشوب دور میں دھماکوں اور بد امنی نےتعلیمی اداروں اور ملک و قوم کی عزت کا جنازہ نکال دیا ہے۔
ان تمام خرابیوں کے باوجود طلبہ محنتی ہیں اس ملک و قوم کے یہ انمول اثاثے ہیں۔
مقررین نے مزید کہا کہ حقیقت کو چھپانے سے مسائل حل نہیں ہونگے۔
ہم ترقی کی بات تو بڑھ چڑھ کر کرتے ہیں اب بھی ہم ٹینکروں سے پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔
ملک ہر سال ائی ایم ایف کااربوں ڈالر کا مقروض ہوتا جا رہا ہے۔
بچوں کو پڑھنا ہے سائنس وٹیکنالوجی کا دور ہے، بچے اقبال کی شاہین بنیں۔ تعلیم کے تمام راستے کھولنے ہونگے۔ ایجوکیشن اور ٹیکنالوجی کے پروگراموں کی ضرورت ہے۔
ایسے پروگراموں کے اہتمام کی ضرورت ہے۔
ہم سیول سوسائٹی کےمشکور ہیں۔یہ ہم سب کی اہم ذمہ داری ہے کہ ہم ایسے ٹیلینٹڈ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کریں بچوں میں صلاحیتوں کی کمی نہیں حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔
بلیدہ ایک پسماندہ علاقہ ہے اس کا ایک بلوچ نوجوان بڑا سائنس دان ہے۔
طلبہ کسی بھی غربت زدہ خاندان یا پسماندہ علاقے سے اس کا تعلق ہو وہ محنت کرکے آگے بڑھ سکتا ہے۔ محنت اور خود اعتمادی کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ میری طلبہ سے اپیل ہے کہ وہ ہمت نہ ھاریں اپ بہترین تعلیم حاصل کریں اس سماج کو شعورو اگاہی سے ہمکنار کر دیں۔
سیول سوسائٹی کے کنوینر نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا مقابلہ ہوا ہے کسی کو تو ہارنا ہے کسی کی جیت توہونی ہے۔
اس سیمینار میں نوجوانوں کو پیغام دیا گیا کہ یہ ہمارے تخلیق کار بنیں۔ جستجو ہمت سے ہی صحیح رہنمائی مل سکتی ہے۔
ہماری آبادی کی 60%نوجوانوں پر مشتمل ہے ۔ گوادر میں نوجوانوں کے لئے ٹیکنالوجی اور پروفیشنل تعلیم کی ضرورت ہے۔
ایجوکیشن بڑی تبدیلیاں لانے میں اہم کردار ادا کر سکتاہے پورٹ ہو ائیر پورٹ یا سی پیک ہو تعلیم یافتہ افراد کی ضرورت ہے۔
نوجوانوں کو ہم اہم کاموں کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
ہمارے پاس پڑھے لکھے لوگوں کی کمی نہیں، لیکن ٹیکنیکل ایجوکیٹڈ کی کمی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے ہماری سوسائٹی کو ڈاکٹر انجنیئر ٹیکنیشن چائیے ترقی میں تعلیم کے کردار سے انکار نا ممکن ہے۔
سی پیک کی ہاتھی جلد پہنچ رہا ہے اس کا مقابلہ صرف تعلیم یافتہ نوجوان ہی کر سکتے ہیں۔
تعلیم یافتہ پنجاب اور سندھ کے محتاج نہ ہوں ہم نوجوانوں میں روشنی کی ایک کرن دیکھ رہے ہیں۔اگر اب بھی ہم تعلیم و ہنر سے پیچھے رہ گئے تو ترقی کا معراج یونیورسٹی لیول کی تعلیم سے ممکن ہے، ہمارے ہاں جو تعلیمی ادارے ہیں وہ معیاری نہییں۔ ۔ ان میں صرف قائد اعظم یونیورسٹی واحد تعلیمی درس گاہ ہے۔ جسے بین الاقوامی طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔
مقررین نے مزید کہا کہ ہم ائی ایم ایف کے محتاج اور قرضوں سے جھکڑےہیں۔
چائنا ایک سال بعد آزاد ہوا۔ چائنا نے اپنی پاپولیشن پر پابندی لگائی مین پاور کی جب کمی محسوس ہوئی تو ایک سے دو اور اب تین بچے پیدا کرنے کی اجازت مل گئی ۔
ہمیں یوتھ کو اگے بڑھانے کا موقع دینا ہوگا، اس کمپیٹیشن میں گوادر کے تیرہ سے زائد سرکاری اور پرائیویٹ اسکولوں کے طلباءو طالبات نے حصہ لیا جس میں ماڈل اسکول کے طالب علم شکل نے پہلی گرلز ڈگری کالج کی طالبہ گل جان نے دوسری جبکہ بوائز ڈگری کالج کے طالب علم. شیرجان نے تیسری پوزیشن حاصل کی مقابلے میں سابق تحصیل ناظم ماجد سہرابی،پرنسپل گرلز ڈگری کالج پروفیسر میڈم سبین، پرنسپل بوائز ڈگری کالج کے پرنسپل امداد علی صاحب نےجج کے فرائض ادا کئے، ماجد سہرابی نے پوزیشن اولڈروں کے ناموں کا اعلان کرتے ہوئے بہترین بات کی کہ طالب علم اپنی تقریریں خود لکھیں وہ کریٹیو تخلیق کار بنیں۔
تقریب کے آخر میں پوزیشن حاصل کرنے والے اور حصہ لینے والے بچوں میں شیلڈ تقسیم کئے گئے تقریب میں گوادر سول سوسائٹی کی خواتین سیکریٹری میڈم حسنہ افضل،انفارمیشن سیکریٹری حنیف راج سول سوسائٹی کے زمہ داران عدیل گورگیج عدنان قاضی یاسر امام،درجان علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ڈائریکٹر ماجد حسین۔گرلز ہائی اسکول کی میڈم بیگم النساء سمیت مختلف اسکولوں کے بچے بچیوں اساتذہ استانیوں سمیت گوادر سول سوسائٹی کے کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جبکہ تقریب کی نظامت کے فرائض چیئرمین محمد جان اور میڈم زمزمہ نے بڑی خوبصورتی سے ادا کئے۔

Comments
Post a Comment