جیوز لبزانکی گل گوادر


جیوز لبزانکی مراگش و ردانک (گوادر 

تحریر سلیمان ہاشم

ایجوکیشنل اینڈ انوارمنٹل ویلفئیر سوسائٹی ) کےزیر اہتمام ہر ماہ کی طرح اس ماہ فروری کی پہلی تاریخ کی خوبصورت شام کو اپنے آفیس میں ادبی مجلس کا انعقاد کیا, جس میں گوادر اور اس کے مضافات کے قرب وجوار کے شاعر و ادیب و ادب دوستوں نے اس ادبی مجلس میں بڑی تعداد میں شرکت کی




۔

اس مجلس کے نظامت کے فرائض جیوز لائبریری کے معتمد خاص درا خان نے بڑی خوش اسلوبی سے انجام دئیے، اس دوران انہوں نے کہا کہ 13فروری کو جیوز کے زیر اہتمام بلوچستان کے عظیم پائے کےشاعر، دانشور اور ادیب عطا شاد کی یاد میں ایک بڑی ادبی دیوان کا انعقاد کیا جائے گا۔ امید ہے کہ ادب دوست اس دن اپنے شاعروں اور ادباء کی ادبی خدمات کو خراج عقیدت یش کرنے ضرور شرکت کریں گے۔ 




اس ادبی مجلس کے مہمان خصوصی بلوچی زبان و ادب کے مایہ ناز ادیب اور قصہ گو صلاح الدین بیوس نے اس مجلس میں اپنے خطاب میں جیوز کا پلیٹ فارم ہر ادب دوست کے لئے ہمیشہ کھلا ہے۔ اس ادارے نے بے سروسامانی کے باوجود ہمیشہ ہماری رہنمائی کی ہے۔

 اور ہم امید کرتے ہیں کہ یہ سفر اسی طرح رواں دواں رہے گا۔ ہم شرکاء کے مشکور ہیں کہ وہ ہمیں سنتے ہیں ہماری اصلاح کرتے ہیں۔

جیوز کے ایک اہم ناقد اور ہمیشہ جیوز کے ہر پروگرام میں شرکت کرنے والے الہی بخش بلوچ نے اس دوران اپنے خطاب میں جیوز کے لئے اپنے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جیوز اس علاقے اس شہر اس خطے کے لئے ایک اہم مقام کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس ادارے نے اپنے پلیٹ فارم پر ہمارے حوصلے بلند کئے، شاہد اس وقت تک ہم اس مقام میں نہیں پہنچ سکتے تھے۔

  اس ادارے کی بدولت  ہماری پہچان ہوئی۔ اس کی عمارت اگرچہ شکستہ ضرور ہے لیکن اس کے چاہنے والوں  کےوچار ہمیشہ بلند رہے ہیں اور ہمارے کمزور بازوں کوحوصلے اور بلندعزائم سے ہم کنار کر دیا ہے۔  اور مستقبل میں ہم پر امید ہیں کہ اس ادارےکے مایہ ناز اکابرین اس کو مزید مضبوط و توانا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔

اس سے پہلے اس مجلس کے  نثری ادب کےپہلے حصے میں  اس مجلس کےمہمان خصوصی اور قصہ گو صلاح الدین بیوس نے ایک سبق آموز کہانی شرکاء کو سنا کر انہیں کافی محظوظ کیا۔ اورہمیشہ کی طرح مشہور و معروف ادیب و دانشور اور بنکر رفیق زاہد کی  ترجمہ کی ہوئی افسانہ زندے دروشم کو انہوں نے بلوچی زبان میں پیش کی،  ان کے بعد گوادر پریس کلب کے صدر نور محسن نے بلوچی میں اپنا مقالہ زندگی پیش کی۔ اس دوران شرکاء سے تمام نتر نگاروں کو خوب داد تحسین ملی ۔

حصہ نثر کے بعد دوسرے حصے میں مشاعرے کا اہتمام کیا گیا۔

 اس میں عبدالوحید بالاچ، ظاہر زانت، صدام عمر، عمر الدین مہر، سمین زیب، عالم سیف، صدام الطاف، شاہ میر دیدگ، احمد نثار، مراد بخش مہر ، رزاق تحسین، درا خان اور نور محسن نے اپنے اپنے کلام سے شرکاء کے دل جیت لیے۔

Comments

Popular posts from this blog

قسط نمبر 5 کراچی کرایہ کا فلیٹ اور شیدی ولیج روڈ

پہلی بار پاکستان کوسٹ گارڈز میں صرف بلوچستان کے نوجوانوں کو بھرتی کیا جائیگا لیفٹیننٹ کرنل جاوید حسین

گوادر شاہی بازار میں مذہبی رواداری