گوادر پورٹ سٹی کے ماہی گیر

گوادر پورٹ سٹی کے ماہی گیر  

 بلاگ رائے دیں

سلیمان ہاشم۔      ۔                      







 اسی کی دہائی کی بات ہے میں الامارات کی 

 بوئینگ ائیر بس سے عمان سے کراچی پاکستان جا رہا تها۔ کچھ وقت کے بعد اعلان ہوا کہ اس وقت ہم گوادر بلوچستان کے اوپر سے گزر رہے ہیں اور ایک گهنٹے سے پہلے کراچی انٹر نیشنل ائیر پورٹ پہنچیں گے۔ جہاز بہت اونچائی سے پرواز کر رہا تھا میں نےچھوٹی کھڑکی کا پرده سرکایا تو نیچے ایک چھوٹی کشتی کی مانند نیلے سمندر میں گوادر ایک چھوٹی کشتی کی مانند نظر آ رہا تھا اور وه چند منٹوں کے بعد نظروں سے بهی اوجھل ہوگیا. اتنی اونچائی سے نہ اس کی خوبصورتی کا اندازه لگایا جاسکتا تھا اور نہ اس کی خوشبو کی مہک محسوس کی جا سکتی تھی۔ جو میرا جنم بھومی سر زمین ہے۔

جن جن لوگوں نے گوادر کے بارے میں بہت کچھ سنا ہے لیکن اس کو کبھی قریب سے دیکھا ہی نہیں صرف پڑھا  یا اس کی خوبصورت لوکیشن کی خوبصورت تصویریں دیکھی ہوں گی تو وه کہتے ہیں کہ گوادر بہت ہی خوبصورت شہر ہے. اس کا ایک بد صورت چہرہ بہت کم غیر مقامی صحافیوں نے دیکھا اور یہی لوگ کہتے ہیں کہ یہ ملک کی تقدیر کو بدل دے گا گوادر پورٹ دوبئی اور سنگا پور کو بھی پیچھے ۔چھوڑ دے گا

اسلام آباد میں اقتصادی راہداری کانفرنس اور ایکسپو کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا تھا کہ گوادر پورٹ سٹی سی پیک منصوبے کے ماتھے کا جھومر ہے اور وہاں بندرگاہ کی تعمیر تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔

یہ اس مملکت پاکستان کے ماتھے کا جھومر لیکن ایک ماہی گیر کے لیے ان باتوں کی کوئی اہمیت نہیں۔ 

حالانکہ 2007 میں پورٹ بن  کر تیار ہو چکی ہے لیکن آج تک وہ فنکشنل نہ و سکا اور گوادر کی تقدیر میں کوئی انقلاب نہ لا سکا۔

کچھ لوگ گوادر کو پی سی ہوٹل کی اونچائی سے اور اپنی رنگین عینک سے دیکھتے ہیں انہیں بھی گوادر بہت خوب صورت شہر نظر آتا ہوگا اور کوئی اجنبی پہلی بار جب کوه باتیل اور پی سی ہوٹل کی اونچائی سے گوادر کو دیکھے گا اسے گوادر تین اطراف سے نیلے سمندر میں گهیرا ہوا ایک خوبصورت جزیرہ نما شہر نظر آئے گا۔ اس اونچائی سے نیچے واقعی گوادر بہت خوب صورت اور جاذب نظر شہر دکھائی دیتی ہے۔اب شاید گوادر کے ماہیگیروں کو گوادر کی ترقی سے زیاده اپنی بقا و سلامتی دامن گیر ہونے لگا ہے اپنے نقصانات اور خدشات و تحفظات نظر آنے لگے ہیں. ان کو اب احساس ہونے لگا ہے کہ اس ڈیپ سی  پورٹ سے حکمرانوں نے اس کو اب تک فنکشنل نہیں کی کہ یہاں کے عام عوام اس سے استفادہ  حاصل کرسکتے۔

 جبکہ دوسری جانب کئی مہینوں سے سیوریج کا گندا پانی سمندر میں جانے کے بجائے علاقہ مکینوں کے لیے سر درد بن چکا ہے۔ گهروں کے سامنے گندے پانی کا جوہڑ جھیل کی صورت میں مہینوں سےکھڑی ہے۔ اس کی نکاسی آب کا اب تک کوئی موثر حل نہیں نکلا. اب کچھ مہینوں سے گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی پورٹ کے قریبی اولڈ گوادر کی نکاسی آپ اس کے علاوه 

ایکسپریس وے کے قریب سڑک بنانے پر مصرف عمل ہے۔

 2018  جب ثنا الله زہری وزیر اعلی بلوچستان تھے انہوں نے گوادر میں ماہی گیر کالونی بنانے کا اعلان اور گوادر کے مقامی ماہی گیروں سے بہت سارے وعدے وعيد بھی کیے لیکن اس پر آج تک عمل در آمد کی نوبت نہ آئی. کئی بار مچھیروں کی مختلف تنظیموں نے اس سلسلے میں ماہی گیر کالونی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔


گوادر فش ہاربر ڈھوریہ کے ساحل سے لیکر تقریباً ساحلی پٹی کا کئی کلو میٹر کے رقبہ پر مشتمل قریبی رہائش پذیر غریب مچهیروں کی بستی آباد ہیں لیکن انہیں رہائش کے لئے ان کےگهر ان کی فیملیز کے لئے تنگ ہیں. کئی بار ضلعی انتظامیہ نے ان علاقوں کا دوره کر کے سروے رپورٹ مکمل کرکے انتظامیہ کو فراہم کی ہے۔ کہنے کو کہا جاتا ہے کہ ان ماہی گیروں کے لئے دو سوایکڑ زمین الاٹ کی گئی ہے

جی ڈی اے کے اکثر وبیشتر سیوریج لائن ابھی تک پایہ تکمیل تک نہ پہنچنے کی وجہ   سے ان علاقوں میں گندے پانی کی نکاسی نہ ہوئی اس وجہ سے کئی مہلک امراض پھوٹ پڑے جن میں ملیریا، ڈینگی وائرس، نزلہ زکام، سانس کی مختلف امراض اور ڈائریا و ٹائیفائیڈ وغیره سے کئی قیمتی جانیں ضائع ہوگئی ہیں.


گوادر کے سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجہ کی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ مریضوں کو کراچی ریفر کیا جاتا ہے لیکن کراچی پہنچنے سے پہلے وه رستے میں ہی جان کی بازی ہار جاتے ہیں یا کراچی کے ہسپتالوں میں دم توڑ دیتے ہیں.


ان علاقوں میں کئی مسائل پیدا ہو چکے ہیں جہاں پینے کے صاف پانی کی پائپ لائن گزر رہی ہے۔ کافی پرانے پائپ ہیں اور گل سڑ گئے ہیں جن میں بد بو دار پانی مکس ہونے سے علاقہ مکینوں کا اس کو استعمال کرنے سے وه کئی امراض کے شکار ہو چکے ہیں. ڈهوریہ ملا بند وارڈ اور کوه بن وارڈ میں بد بو اور تعفن کی وجہ سے سانس لینا مشکل ہے. خصوصاً ڈهوریہ اور کوه بن وارڈ میں گندے پانی کے ان جوہڑوں کے قریب رہنے والے مکین کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں.


لیکن جو لوگ ترقی کی گردان کرتے تھکتے نہیں ان کو اس شہر کی وه گندگی کبهی نظر ہی نہیں آتی. اب تو ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ماہی گیر اپنے نمائندوں سے بهی دلبرداشتہ ہو چکے ہیں۔ کیونکہ ان مسائل سے بڑے مسائل سر اٹھا رہے۔ اب الیکشن میں کئی پارٹیوں کے نمائندوں کی روز ان علاقوں میں لوگوں کو ان کے مسائل کے حل کی بڑی بڑی باتیں تو ہو رہی ہیں۔ 

کچھ لوگ اب بھی بلوچستان کے حالات کو دیکھ کر یقین نہیں کرتے ہیں کہ 8فروری کو الیکشن ہونگے۔

Comments

Popular posts from this blog

قسط نمبر 5 کراچی کرایہ کا فلیٹ اور شیدی ولیج روڈ

پہلی بار پاکستان کوسٹ گارڈز میں صرف بلوچستان کے نوجوانوں کو بھرتی کیا جائیگا لیفٹیننٹ کرنل جاوید حسین

گوادر شاہی بازار میں مذہبی رواداری